تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 168 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 168

پروفیسر ڈاکٹر طا لو کیوسی تقریباً پانچ چھ سال سے احمدیہ مشن جو منی کے ساتھ گہرا رابطہ رکھتے تھے اور اسلام اور قرآن مجید کا مطالعہ کر رہے تھے۔ابتدائی دو سال آپ نے عربی زبان سیکھنے اور اسلام کے بارے میں اپنی معلومات وسیع کرتے ہیں صرف کئے اور اس سلسلہ میں مکرم مولوی فضل الہی صاحب انوری مبلغ فرانکفورٹ نے آپ کی ہر مکن امداد اور رہنمائی کی۔عربی کا ضروری علم سیکھنے اور اسلامی تعلیمات سے اچھی اور طرح متعارف ہونے کے بعد آپ نے صرف ایک سال کے اندر بین الاقوامی زبان اسپرانٹو ( ESPERANTO) میں قرآن کریم کا ترجمہ مکمل کر لیا۔اس دوران میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالے کی دُعائیں تو جہات آپ کے شامل حال رہیں۔اسپرانٹو ترجمہ قرآن کا دیباچہ چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے تحریر فرمایا۔بقیه باشه صفحه گذشته) معلومات ہیں۔اس کے علاوہ اسپرانٹو زبان میں ڈاکٹر صاحب موصوف کی ایک گراں قدر تصنیف بعنوان " ہادی برحق صلے اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں ڈنمارک کے مطبع میں زیر طبع ہے۔اس کتاب کا نصف حصہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی مقدس سوانح پر مشتمل ہے اور بقیہ نصف حصہ میں ایک سو احادیث رسول کا ترجمہ اور تشریح مع عربی متن کے ہے۔اسپرانٹو زبان کے ایک مشہور رسالہ (BIBLICAL REVIEW) میں اسلام کے متعلق اکثر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔لہ سے آپ اسپرانٹو کی مرکزی اکیڈمی کے عمبر منتخب ہو گئے ہیں۔آپ کو اسپرانٹو جاننے والے حلقوں میں خدا تعالیٰ نے تبلیغ کی بڑی موثر توفیق بخشی ہے۔شاہ سے آپ کو ہر سال اسپرانٹو کی عالمی کانگریس میں اسلام پر تقریر کے لئے مدھو کیا جاتا ہے۔چنانچہ نشانہ سے آپ کو بحیثیت نمائندہ اسلام شمولیت کا اعزاز حاصل ہوا۔شکار میں آسٹریا کے دارالحکومت دی آنا میں اور نہ میں لنڈن میں آپ نے کانگریس کے اجتماعات میں اسلام کی حقانیت پر پُر مغز مقالے پڑھے۔راہ میں کانگریس کے اجلاس امریکہ میں تقریر کے علاوہ ایک یونیورسٹی میں آپ کو اسلام پر تقاریہ کی دعوت ملی جس میں آپ کا مقالہ اسپرانٹو اکیڈمی کے سیکوٹری صاحب نے پڑھ کر نمایاه تاریخ وفات ۹/۸ جون ۱۹۷۳ء لے یہ زبان جسے پروفیسر ڈاکٹر زامن ہوف ( DALL ZAMENNOF ) نے بین الاقوامی رابطہ کی غرض سے شملہ میں رائج کی تھی اب یورپین اور دوسرے متعدد ممالک میں بولی اور سمجھی بھاتی ہے۔دنیا کی اہم مذہبی علمی اور سیاسی کتابوں کے تراجم اس زبان میں ہو چکے ہیں مگر اس میں قرآن کریم کا ترجمہ کرنے کی سعادت پہلی مرتبہ پروفیسر ڈاکٹر طا لو کیوسی ہی کو حاصل ہوئی ہے ؟