تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 4 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 4

یگار سیر یانیشی ناتوانیت دما و راس خانه معد شادی کے کی روزہ ہو ایلها بلنے سے زیادہ عبادت اور دعا مهر روزه بر تعداد ای گر اکیا شهر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان باتوں سے پر ہیز کرو جن سے تعلق نہ ہو۔قرآن کریم فرماتا ہے لغو باتوں سے پر ہیز کرواد تخلیقی ہدایات بہت دی جا چکی ہیں ان کو یاد کریں اور ان پر عمل کریں کسی نے کہا ہے یا زرق در خود بشناس“ اس مقولہ کو یادرکھو ہم غریب لوگ ہیں ہم نے اپنے ذرائع سے کام لے کر دنیا فتح کرنی ہے یہ سبق بھولا تو تبلیغ یونہی بیکار ہو جائیگی۔باقی فتح دعاؤں اور نماز اور روزہ سے آئے گی تبلیغ سے زیادہ عبادت اور دعا اور روزہ پر زور دو۔خاکسار مرزا محمود احمد (۲۳) پھر سر نبوت را برایش که مولوی صاحب کا ایک خط ملا نظطہ کر کے ارشاد فرمایا :- اب وقت کام کا ہے۔تبلیغ پر زور دے کر ایک موت وار کریں تا احمدیت دوبارہ زندہ ہو اور مالی اور روحانی قربانی کی جماعت کو نصیحت کریں۔اب ہر ٹک کو ایسا منظم ہونا چاہیئے کہ ضرورت پڑنے پر وہیں تبلیغ اور سلسلہ کا بوجھ اٹھا سکے۔پہلے بہت مستی ہو چکی۔اب ایک مجزا نہ تخیر ہمارے مبلغوں اور جماعت میں پیدا ہونا چاہیے" ارون مشن کی ابتداء نہایت پریشان کن ماحول اور حوصلہ شکن حالات میں ہوئی۔قضیہ فلسطین کے باعث ہر طرف ابتری پھیلی ہوئی تھی اور دور سے کثیر تعداد نظوم فلس اینی مسمانوں کی طرح سینا کے متعدد علمی گھرانوں کو ہی وبست کر کے شام و لبنان می پناہ گزین ہونا پڑا تھا بخود مولوی رشید احمد صاحب چغتائی جو حیفا ہی سے اردن میں تشریف لائے تھے محض اجنبی اور غریب الدیار تھے۔مولوی صاحب موصوف نے اپنی تبلیغی علمی اور اصلاحی سرگرمیوں کا آغاز ایک ہوٹل سے کیا جہاں آپ صرف چند ہفتے تقسیم رہے مگر پھر جلد ہی انتخابات میں تنگی کی وجہ سے، اپنے ایک عرب دوست السيول عين الكريم الملفابطة ابن المساج محمد هلال المعايطة کے ساتھ ایک کمرہ میں رہائش پذیر ہو گئے۔چند ماہ بعد جب فلسطین کے ایک مخلص عرب امری بیانگر این السيدة القران عمان میں آگئے تو مولوی صاحب ان کے پاس ایک مختصر کمرہ میں منتقل ہو گئے۔یہ مرہ کرایہ پر لیا گیا تھا اور شارع المحله زریو سے روڈ پر واقع تھا۔