تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 137 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 137

۱۳۱ ارشاد نبوى مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ وَعِرْضِهِ فَهو شمسید پر عمل کرنے کا سلام کو رکھا تھا۔سپاہی کوئی ہمارے ہاں آیا نہ تھا۔مغرب تک گوشہ گوشہ کی تلاش و تفتیش کر کے ALL CLEAR دیئے گئے ار اگست ۹۴۷اد سے جون ۱۹۴۰ تک سارے اصلی اسرائیل میں صرف ہماری مسجد سید نا محمود سے ہی پانچ وقت اذان بلند ہوتی رہی۔باقی سب مساجد مہجور ہو گئیں بہاری آنکھوں کے سامنے شہر گر گئے اور آبادیاں ویران ہو گئیں۔ان ایام میں جبکہ ہمارے چاروں طروت گولیاں برستی تھیں اور ہر بات یہ معلوم نہ ہوتا تھا کہ صبح ہم پر طلوع ہوگی یا نہیں، دعوت احمدیت کا کام با وجود محصور ہونے کے بھاری رکھا۔اگرچہ بیرونی دنیا کے ساتھ مارچ سنہ سے فروری سنہ تک سلسلہ عام ڈاک منقطع رہا تاہم رسالہ "البشري " با قاعدہ جاری رکھا گیا۔جن ایام میں سلسلہ ڈاک منقطع تھا۔بیرونی ممالک کو جس قدر رسالہ بھیجا جاتا تھا وہ محفوظ رکھا جاتا تھا اور مقامی طور پر حیس قدر تقسیم کیا جا سکتا تھا، تقسیم کیا جاتا رہا۔فروری 1999 میں بہت سے ملکوں کے ساتھ سلسلہ عام ڈاک روال ہوا۔مگر تا ھائی سوائے عدن کے اس ملک کے جملہ اسلامی ممالک سے تعلقات کے منقطع ہونے کے باعث رسالہ بھیجا نہ جاسکا۔رسالہ کے ہر نمبر کا مسودہ طبع کرنے سے پہلے ملٹری سنسر کو برائے حصول اجازت طلبات بھیجنا پڑتا ہے اور بعد طباعت بھی اس کی دو کا پیاں ارسال کرنی پڑتی ہیں اور یہی حکم دیگر مطبوعات کا ہے۔بوقت تحریر ہذا مشرقی افریقہ ، حبشہ ، عدن ، مغربی افریقہ ، ارجنٹائن اور برازیل کو بھیجا جاتا رہا ہے۔۱۹۴۷ء میں جس قدر عربی اخبارات و رسائل اس ملک میں شائع ہوتے تھے اب ان میں سے صرف ہمارا رسالہ ہی ہے جو جاری ہے۔اگر چہ پہلے بھی سارے فلسطین میں سے کوئی بھی اسلامی دینی رسالہ شائع نہیں ہوتا تھا مگر اب تو ہر قسم کے رسائل ؟ اخبارات و کتب پر بھی قیامت برپا ہو چکی ہے۔