تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 135 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 135

۱۲۹ اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقت کی ہوئی ہیں۔حضرت اسمعیل کی اس اولاد کی طرح ہو جنہوں نے وادی غیر ذی زرع میں بستی کو آباد کیا تھا۔یہ کوئی اتفاقی بات نہیں ہے تعلیم الاسلام کا لج کو تو لاہور میں جگہ مل گئی اور ہائی سکول کو چین بوٹ میں مکان مل گیا۔لیکن مدرسہ احمدیہ اور جام نہ احمدیہ کو یہاں احمد گہ نہ میں جگہ ملی جو دیور کا ہی حصہ ہے بلکہ یہ مقدائی منشاء کے ماتحت ہے" d حضور نے اپنے قلم سے جامعہ احمدیہ کے رجسٹر پر مندرجہ ذیل عبارت تو یہ فرمائی : میں وہی کہتا ہوں جو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے جنگ اُکر کے موقعہ پر فرمایا الله اعلى واجل " ازاں بعد نور نے احمدنگر کی زیر تعمیر احمدیہ مسجد میں مغرب کی نماز پڑھا کہ اس کا گویا افتتاح و کرا دیا۔اس مسجد کا سنگ بنیاد دوماہ قیل مکرم مولوی ابوالعطاء صاحب پر سپین جامعہ احمدید پرینڈ ٹرنر ما احمد کرنے مار اد اکتوبر بروز جمعتہ المبارک رکھا تھا۔یہ احمد نگر کی پہلی احمدیہ مسجد ہے جو مشر پنجاب کے پناہ گزیں احمدیوں کے ہاتھوں تعمیر ہوئی میلے بیرونی مشغول کی گرمیاں : یہ سا ما احمدیر شن فلسطین کی تاریخ میں انتہائی پر فتن اور پر ابتلا تھا۔ارض مقدس فلسطين شن :- میں بڑی بڑی طاقتوں کی سازش نے مسلمانان فلسطین کے سینے میں اسرائیلی حکومت کا خنجر گھونپ دیا اور اس علاقہ میں مشرقی پنجاب جیسے حالات پیدا زد گئے۔بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمد یہ فلسطین کو توفیق بخشی کہ اس نے نہایت جانبازی اور سر فروشی کا ثبوت دیتے ہوئے اسلام کا جھنڈا اس علاقہ میں بلند رکھے اور اس کے مرکز جیفہ کی مسجدیں پنجوقتہ اذانوں کی گونج سنائی دیتی رہی۔چنانچہ مولوی محمد شریف صاحب استا ریخ مشن نے مشن کی ۴۷ و یء کی رپورٹ میں لکھا :- بار چ ہ سے ستمبر م ۹۳ تک یہاں قیامت برپا رہی۔آج یہاں کے دس لاکھ مسلمان عربوں میں سے ساڑھے آٹھ لاکھ مسلمان عرب جلا وطن اور بے نما نما ہو کر پڑوس ممالک میں پناہ له الفضل ۲۵ فرع / دسمبر به بش صفحه ۵ : در انتها دار اکتوبیمه در