تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 110 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 110

لوائے احمدیت کا لہرایا جاتا آخری دن یعنی ہو یا دسمبر کے پہلے اجلاس میں حضرت مولوی عبدار آمین فتح ا صاحب جٹ امیر مقامی نے بوائے احمدیت لہرایا۔اس دوران میں احباب جماعت بنا تقبَّلَ مِنَا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ کی ابراہیمی دعا پڑھ رہے تھے کہ ایک، درویش نے تین بار نعرہ تجر بلندکیا اور فضا اللہ اکبر کی پر شوکت آوازوں سے گونج اٹھی سمجھنڈا لہرانے کے بعد حضرت امیر مقامی نے تجدید عہد کے لئے حاضرین سے وہ الفاظ دہرائے جو حضرت مصلح موعود نے جلسہ جوابی ۱۹۳۹ء کے موقعہ پر لوائے احمدیت لہراتے وقت کہلوائے تھے۔جلسہ میں لاوڈ سپیکر کا عمدہ انتظام اور خوشکن حاضری جلسہ میں لاؤڈ سپیکر کا عمدہ انتظام تھا۔مقامی مجسٹریٹ سردار مولک سنگھ صاحب، ڈی ایس پی صاحب، انسپکٹر پولیس صاحب اور متعدد سب انسپکٹر شریک جلسہ رہ ہے اور جملہ تقاریہ نہایت توجہ اور و طبیعی اور دلچسپی سے سنیں۔۲۷ رفتیم اوسمبر کے پہلے وقت کی کارروائی میں حاضری ساڑھے آٹھ سو کے قریب تھی جو دوسرے وقت میں چودہ سو تک پہنچ گئی جس میں ساڑھے تین سو تو احمدی تھے اور باقی سب غیرمسلم تھے جن کی تعداد ان جلسوں کی عام حاضری سے بھی بہت زیادہ تھی جو خود ہندوؤں اور سکھوں کے جلسوں میں شرکت کرتی رہی۔اس طرح خدا کے فضل و کرم سے اسلام و احمدیت کی تبلیغ کا ایک ایسا اور موقع میسر آیا جو اُن دنوں مشرقی پنجاب بلکہ پورے ہندوستان میں بھی کسی دوسری مسلم جماعت کو سا عمل نہیں ہو سکتا تھا۔اور تو درویشوں کے خلاف شروع سال کی تحریک مقاطعہ کا خدا تعالے کی طرف سے شاندار عملی جواب پودر آسمانی نصرتوں کا چمکتا ہوا نشان تھا۔فالحمدللہ علی ذالک * البقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ بنگالی بالغ بریک بھی تھے۔واپسی پر یہ قافلہ مسجد اقصٰی اور دار مسیح کے کنوئیں کا پانی لنگر خانہ مسیح موعود کی پچھتر روٹیاں بطور تبرک ساتھ لے گیا جس کی تقسیم کا ذکر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنے ایک خط میں بایں الفاظ فرمایا :- ہو پانی اور نان وہ قادیان سے کاٹے تھے وہ سب عزیزوں اور دوستوں میں تقسیم کر دیئے گئے اند بہت سے لوگوں نے اس تیرک سے حصہ پایا۔میں نے دیکھا کہ جب مولوی فضل دین صاحب دوکیل قاتل، لنگر خانہ کے نان کا ٹکڑا منہ میں ڈال رہے تھے تو ان پر اس شدت کے ساتھ رقت طاری ہوئی کہ انہیں سنبھالنا مشکل ہو گیا" اور