تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 438
ر کیا جو شخص کمزور ہے اور کمزور ہو کر چاہتا ہے کہ میں حمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح چپلوں اللہ تعالیٰ اسی کی اس بات کو دیکھ کو ناراض نہیں ہوتا بلکہ وہ اور زیادہ خوش ہوتا ہے اور کہتا ہے دیکھو میرا یہ کمزور بندہ کتنا اچھا ہے اس میں بہت اور طاقت نہیں مگر پھر بھی یہ میری طرف سے بھیجے ہوئے ایک نمونہ اور مثال کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے سو ہمیں بھی اس کام کی یاد کے طور پر اور اُس نیستی کی یاد کے طور پر نہیں جگہ خدا کے ایک نبی محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی آمد کے انتظار میں دعائیں کی گئیں اپنے نئے مرکز کو بساتے وقت جوہ اسی طرح ایک وادی غیر ذی زرع میں بسایا جا رہا ہے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرنی چاہئیں کہ شاید ابن لوگوں کے طفیل جو مکہ مکرمہ کے قائم کرنے والے اور مکہ مکرمہ کی پیش گوئیوں کے حامل تھے اللہ تعالے ہم پر بھی اپنا فضل نازل کرے اور نہیں بھی ان نعمتوں سے حصہ دے جو اس نے پہلوں کو دیں۔آخر نتیت تو ہماری بھی وہی ہے جو اُن کی تھی ہمارے ہاتھ میں وہ طاقت نہیں جو محمد رسوبی اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے ہاتہ میں تھی اور ہمارے دل میں وہ قوت نہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں تھی۔اگر ہم با وجود اس کمزوری کے وہی ارادہ کر لیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تو خدا تعالیٰ ہم سے ناراض نہیں ہوگا۔وہ یہ نہیں کہے گا کہ کون ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ یہ کہے گا دیکھو میرے یہ کمزور بندے اس بوجھ کو اُٹھانے کے لئے آگے آگئے ہیں جس بوجھ کے اٹھانے کی ان میں طاقت نہیں۔دنیا اس وقت محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کوبھول گئی ہے بلکہ اور لوگوں کا تو کیا ذکر ہے خود سلمان آپ کی تعلیم کو بھول چکے ہیں۔آج دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم انسان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو بھی اُٹھتا ہے مصنف کیا اور فلسفی کیا اور مورخ کیا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرحملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔دُنیا کا سب سے بڑا محسن انسان آج دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم انسان ہے ، اور دنیا کا سب سے زیادہ معزز انسان آج دنیا میں سب سے زیادہ ذلیل سمجھا جاتا ہے۔اگر ہمارے لوں میں اسلام کی کوئی بھی غیرت باقی ہے ، اگر ہمارے دلوں میں محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی کوئی بھی محبت باقی ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے آقا کی کھوئی ہوئی عزت کو پھر دوبارہ قائم کریں۔اس میں ہماری جانیں ، ہماری بیویوں کی جانیں، ہمارے بچوں کی جانیں بلکہ ہماری ہزار یہ نہیں بھی اگر قربان ہو میائیں تو یہ ہمارے لئے غربت کا موجب ہوگا۔ہم نے یہ کام قادیان میں شروع کیا تھا مگر خدائی خبروں اور اس کی بتائی ہوئی پیشن گوئیوں کے مطابق