تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 435 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 435

الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكُونَهُمْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيم - (۳ بار ) اسے ہمارے رتب تو ان میں ایسے آدمی پیدا کرتے رہو جو تیری آیتیں ان کو پڑھ پڑھ کر سناتے رہیں اور جوان کو تیری کتاب سکھائیں اور تیرے پاک کلام کے اغراض و مقاصد بتاتے رہیں اور ان کے نفوس میں پاکیزگی اور طہارت پیدا کرتے رہیں۔تو ہی غالب حکمت والا خدا ہے۔ران دعاؤں کو پڑھنے کے بعد حضور نے فرمایا :- یہ وہ دعائیں ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے مکہ مکرمہ کے بساتے وقت کہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو قبول فرما کر ایک ایسی بنیاد رکھ دی ہو ہمیشہ کے لئے نیکی اور تقوی کو قائم رکھنے والی ثابت ہوئی۔مگر مگر یہ مکہ مکرمہ ہی ہے اور ابراہیم ابراہیم ہی ہے مگر وہ شخص بے وقوف ہے جو اس بات کا خیال کر کے کہ مجھے وہ درجہ حاصل نہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو حاصل تھا یا میری جگہ کو وہ درجہ حاصل نہیں جو مکہ مکرمہ کو حاصل تھا اس لئے وہ خدا تعالیٰ سے بھیک مانگنے سے دریغ کرے۔جب خدا کیسی عظیم الشان نعمت کا دروازہ کھولتا ہے تو اس کی رحمت اور ریشش جوش میں آ رہی ہوتی ہے اور دانا انسان وہی ہوتا ہے جو اپنا یہ تین بھی آگے کردے کیونکہ پھر اس کا برتن خالی نہیں رہتا۔فقیروں کو دیکھ لو جب لوگ شادی کر رہے ہوتے ہیں تو اس وقت ان پر اخراجات کا بوجھ اور دنوں سے زیادہ ہوتا ہے مگر اس کے باوجود وہ نہیں کہتے کہ ہم کیوں سوال کریں اس وقت تو خود ان پر شادی کے اخراجات کا بوجھ پڑا ہوا ہے بلکہ جب کسی گھر میں شادی ہو رہی ہوتی ہے وہ بھی اپنا برتن لے کو پہنچ جاتے ہیں اور گھر والا اور دنوں کی نسبت ان کے برتن میں زیادہ ڈالتا ہے کیونکہ اس وقت اس کی اپنی طبیعت خرچ کرنے پر آئی ہوتی ہے۔اسی طرح جب کوئی شخص کیسی بزرگ کی نقل کرتا ہے تو چاہے وہ اس کے درجہ تک نہ پہنچا ہوا ہو جب بھی وہ اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے خدا تعالیٰ اس کی کمزوری کو دیکھ کر اس سے زیادہ بخشش کا سلوک کرتا ہے۔ماں باپ اپنے بچہ سے اس وقت زیادہ پیار کرتے ہیں جب وہ چھوٹا ہوتا ہے۔اور جب وہ کھڑے ہونے کی کوشش کرتا ہے تو گر جاتا ہے لیکن ایک بالغ بچہ جب چل پھر رہا ہوتا ہے تو ماں باپ کے دل میں محبت کا وہ جوش پیدا نہیں ہوتا جو ایک چھوٹے بچے کے متعلق پیدا ہوتا ہے۔پس کسی کو یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ خانہ کعبہ کے ذریعہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے دین کی ایک آخری بنیا و قائم کی گئی تھی اس سے ہمارے گھروں کو کیا واسطہ ہے ؟ اُسی کا واسطہ دے کر مانگنا ہی تو خدا تعالیٰ کی رحمت کو بڑھاتا ہے اور انہی کی نقل کرنا ہی تو اصل چیز ہے