تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 414
۴۱۱ نے سانگلہ پر حملہ کیا تو وہاں ایک جنگلی گروہ کی فوج سے اس کا مقابلہ ہوا اور سانگلا کا راجہ شکست کھا کر بھاگا جب جیون سانگ سانگلا پہنچا تو سانگلا بالکل تباہ ہو چکا تھا میں ہیون سانگ نے دیکھا کہ شہر کی دیوار میں خستہ حالت میں تھیں مگر ان کے نشانات باقی تھے جن سے اس نے اندازہ لگایا کہ شہر ہے سو میل کے رقیہ میں آباد تھا یے عربوں کے لئے اس واسطے سانگلا جانے کا کوئی امکان نہ تھا کیونکہ سکندر اعظم نے مدت ہوئی اسے ختم کر دیا تھا۔اس شہر کی شہرت چند رود نے چھین لی تھی جسے آج کل چنیوٹ کہتے ہیں اور یہ جگہ سانگلا سے ۳۰ میل کے فاصلہ پر دریائے چناب کے کنارے آباد ہے۔نوب فوج کے تقریباً سو سپاہی چنیوٹ کو فتح کرنے میں کام آئے۔ان شہیدوں کا قبرستان اب تک چنیوٹ کے باہر موجود ہے۔چند روزیا چنیوٹ ریاست عیفان کا دارالخ یافہ تھا جس کے متعلق بلاذری نے اپنی کتاب فتوح البلدان میں نہایت دلچسپ کہانی لکھی ہے۔اس شہر چنیوٹ کے قریب سندھ سے کشمیر جانے والے مسافر دریائے چناب کو عبور کرتے تھے کیونکہ چنیوٹ سے کشمیر جانے کے لئے راستہ بالکل سیدھا تھا جو پنج جہات یا جہلم میں سے گزرتا تھا اس لئے عرب جرنیل محمد بن قاسم چنیوٹ سے تہلم اور پھر کشمیر گیا ار جون ۱۹۴۷ (مطابق دار احسان ه۳۵۲۷) کو حکومت حضرت مصلح موعود کی فوری ہدایات مغربی پنجاب نے جماعت احمدیہ کے لئے مرکز پاکستان مرکز پاکستان کی اراضی سے متعلق کے لئے منظوری دے دی جس کی اطوارع متے ہیں حضرت مصلح موعود نے کوئٹہ سے فوری طور پر حسب ذیل تفصیلی ہدایات جاری فرمائیں :- فوراً ایک کمیٹی اس لئے بنا دی جائے کہ :۔۱ - جگہ کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے کہ مرکزی دفتر کہاں بنائے جائیں گے۔مقبرہ کہاں ہوگا مقبرے دو ہونے چاہئیں عام اور مقبرہ بہشتی مسجد۔کالج سکول - مدرسہ احمدیہ کالج احمدیہ ہسپتال۔زنانہ سکول۔ریسرچ انسٹی ٹیوٹ وغیرہ سر دست ایک سو سے ڈیڑھ سو ایکڑ تک قصبہ کے لئے ریزرو کی جائے مگر نقشہ اس طرح ہو کہ آئندہ وسعت سے جگہ خراب نہ ہو۔- پانی کے انتظام کے لئے فور اسروے کر کے اور نیچی طرف ایک ٹیوب ویل کا کام فوراً شروع کروا دیا جائے۔