تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 340 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 340

صاحب ڈوپلیمنٹ آفیسر، نواب کرم خاں صاحب کانسی، نواب محمد خاں صاحب جو گے زئی ، خان بہادر ارباب محمد عمر خان صاحب، سردار بہادر میرد و داخان فضا تمندارمری ، خانصاحب سردار گوہر خا نصنا سا تک نئی خان بہادر سردار سندی ان ایا روٹی، مالک جان محمد صاحب، میر قادر بخش صاحب وائس پریذیڈنٹ پراونشل مسلم لیگ، سیٹھ فدا علی صاحب پریزیڈنٹ کو ئٹہ میونسپل کمیٹی میجر ڈاکٹر نواب علی صاحب قریشی سی ایم اور شیخ محمد عارف صاحب ایڈووکیٹ اور مرزا محمد احمد صاحب بی۔اے۔ایل ایل بی خاص طور پر قابل ذکر تھے۔حضرت امیر المومنین المصلح الموعود کی تشریف آوری پر سب سے پہلے چائے نوشی ہوئی بچائے سے فارغ ہونے کے بعد بعض غیر احمدی معززین نے حضور سے استدعا کی کہ حضور اپنے قیمتی خیالات سے ہمیں مستفیض فرمائیں۔اس پر حضور نے تشہد و تعوذ کے بعد فرمایا۔بعض احباب نے یہ خواہش ظاہر فرمائی ہے کہ میں اس موقع پر کچھ باتیں بیان کروں گو انہوں نے بتایا نہیں کہ کیا باتیں ہوں۔انہوں نے مجھ پر چھوڑ دیا ہے کہ جو باتیں میرے ننه دیک مسلمانوں کے لئے مفید ہوں لیکن انہیں بیان کر دوں۔میں سمجھتا ہوں سب سے پہلی چیز جو مسلمانوں کے لئے یہاں بھی اور دنیا کے ہر گوشہ اور ہر ملک میں نہایت ضروری ہے اور جس کے بغیر ہماری ساری کوششیں اور دعوے اور ادعا باطل ہوتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہمارا مذ ہب اس حقیقت کو پیش کرتا ہے کہ وہ ایک زندہ مذہب ہے جو قیامت تک قائم رہے گا۔دنیا کے باقی مذاہب بھی بے شک اپنے سچے ہونے کے مدعی ہیں لیکن اسلام اور قرآن ایک ایسے مذہب کو پیش کرتا ہے جس کی تائید میں ہمیشہ خدا تعالیٰ اپنے نشانات اور قدرتوں کا اظہار کیا کرتا ہے۔پس ایک زندہ مذہب کا پیرو ہونے کے لحاظ سے ہمارے اپنے اندر بھی زندگی ہونی چاہیئے۔آخر خدا تعالیٰ اپنی قدر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اور پھر آپ کے تابعین کے ذریعہ سے دنیا کو دکھاتا رہا ہے یا نہیں ہے وہ ہمیشہ اپنی تائیدات ایسے رنگ میں دکھاتا رہا ہے کہ لوگوں کو حیرت ہوتی تھی کہ کیا کوئی ایسا سلسلہ بھی اس دنیا میں موجود ہے جس کی تائید کے سامان صرف مادی اسباب سے وابستہ نہیں بلکہ مادیات سے بالا ایک اور راستی