تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 337
ہوتا تو اسے پڑھ کر کتنا خوش ہوتا مگر اب اس کے عزیز اسے پڑھ کر خوش ہوں گے کہ ان کے عزیز کو خدا تعالیٰ نے یہ مرتبہ بخشا کہ اس کا ذکر اس محبت کے ساتھ ایک قائم رہنے والے نشان میں شامل کر دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ عزیزیہ اپنے بہت فضل نازل فرمائے۔لیکن جب عزیز کا جنازہ پڑھنے لگا تو اس میں بھی میں نے یہ دعا کی کہ اے اللہ یہ کوئی اچھی چیز خود نہ کھاتا تھا جب تک کہ کہیں نہ کھلا لیتا تھا اب تو بھی اسے اپنی جنت کی اچھی اچھی چیزیں ہماری طرف سے کھلاتا کہ ہماری خدمت کا بدلہ اسے ملے۔عجیب تر بات یہ ہے کہ عزیز کوئٹہ سے آتے ہوئے دو سکس پھلوں کے میرے لئے اب بھی لایا تھا وہ اس کی لاش کے ساتھ لاہور سے لائے گئے اور آج صبیح اس کے بھائی نے اندر بھیجوائے۔رحم الله الْمُحِبَّ الْمُخْلِصَ وَجَعَلَ مَثْوَالَا فِي الْمُخْلِصِينَ مِنْ عِبَادِ “ حضرت امیر المومنین خلیفة اشسیح الثانی المصلح الموعود کا ا بماء احسان ارجوان ها كا کو ساڑھے پانچ بجے شام جماعت مسلمانان بلوچستان سے پہلا بصیرت افروز خطاب احمدیہ کوئٹہ نے حضرت امیرالمومنین المصلح الموعود کے اعزاز میں پارک ہاؤس" کے وسیع احاطہ میں ایک پر تکلف دعوت چھائے دی جس میں ایرانی قونصل ریاست قلات کے وزیر اور بعض دیگر افسران، قبائلی لیڈر، حکومت کے ذمہ دار افسران جن میں سول اور ملٹری دونوں کے آفیسر ز شامل تھے مسلم لیگ کے عہدیدار، روسا وکلاء، ڈاکٹر اور نمائندگان پریس ڈیڑھ سو کی تعداد میں شامل ہوئے۔عبدالرشید خان صاحب ریونیو و جوڈیشل کمشنر بلوچستان ہر فلپ ایڈورڈ پولیٹیکل ایجنٹ کوئٹہ مسٹر مائل سیشن جج ، خان صاب مرزا بشیر احمد صاحب سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کوئٹہ، مسٹر بلانگ سپر نٹنڈنٹ پولیس، مسٹر بیک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ، خان بہا در ملک بشیر احمد صاحب انڈر سیکرٹری ، اسے جی بھی ، خالی بہا در مولوی منیر احمد صاحب وزیر قلات ، سر اسد اللہ خان صاحب ، نواب را کسانی، رابعه زور بخت خان صاحب ڈائریکٹر آف ایگریکلچر بلوچستان ، سخان صاحب آغا سرور شاہ صاحب کمشنر نو آبادی، راجعه احمد خان له الفضل ۲۶ تبلیغ / فروری ۱۳:۲۹ مرگ ۶۱۹۵۰ &