تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 196
۱۹۶ رسم الخط میں ڈوری ترجمہ قرآن تیار کیا جائے گا۔اسلام اور احمدیت سے بڑھتی ہوئی دلچسپی کے پیش نظر ہالینڈ کے نابیناؤں کی انجمن کے ڈائریکٹر کے دل میں یہ خیال آیا۔چنانچہ انہوں نے اس سلسلے میں مشن کو اپنے خیال سے آگاہ کیا۔ایک ڈچ قرآن کا مطالبہ کیا۔مبلغ ہالینڈ صلاح الدین خاں صاحب نے ان سے خط و کتابت کی اور ایک ڈچ قرآن کا نسخہ بھیجوا دیا نیز لکھا کہ اگر زیادہ مہنگا نہ پڑے تو ایک نسخہ ہالینڈ میں جماعت احمدیہ کے مشن کی لائبریری کے لئے بھی تیار کیا جاوے جس پر اُن کا جواب آیا ہمیں ایک نسخہ بناتے ہیں ایک سال کا عرصہ درکار ہو گا لہذا یہ کام بہت مہنگا ہے مبلغ ہالینڈ نے اُن کو لکھا اگر اِس قدر مہنگا ہے تو مش متحمل نہیں ہو سکے گا لہذا میشن کے لئے نہ بنوایا جائے۔مگر اُن کا جواب ملا کہ چونکہ آپ نے ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے لہذا ہم اب ایک کی بجائے دو نسخے تیار کریں گے ایک اپنی انجمن کے لئے اور دوسرا آپ کے مشن کی لائبر میری کے لئے۔اُمید ہے کہ نابیناؤں کے رسم الخط میں ڈچ قرآن کے یہ نسخے ایک سال یا اس سے کچھ زیادہ عرصہ میں تیار ہو جائیں گے۔عیسائی حلقوں کی طرف سے ہالینڈ میں ہالینڈ میں اسلامی مشورہ کے قیام کا ایک نمایان لہ و عمل یہ ہوا کہ عیسائیت (جسے قبل ازیں ملک چرچ کے زوال کا واضح اعتراف میں اجارہ داری حاصل تھی کھلے طور پر زوال پذیر ہے اور خود عیسائی حلقوں کی طرف سے اس کا واضح لفظوں میں اعتراف کیا جا رہا ہے۔اس ضمن میں ہیگ شہر کے اعلیٰ طبقہ میں مقبول روزنامہ " HET VADER LAND " اپنی اشاعت مورخہ ۲۳- جون ۹۶ہ میں لکھتا ہے :- ہالینڈ کی پرائٹسٹنٹ انجمن کی ہیگ شاخ نے بڑے غور کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ موسیم گرما میں چرچ میں عبادت کرنا بند رکھا جائے۔لہذا آئندہ سال سے جہینہ کے پہلے اتوار کی صبح کوئی عبادت نہیں ہوا کرے گی۔یہ اہم فیصلہ بیگ شہر کی پرائٹسٹسٹ انجین کی مرکزی کمیٹی کو لوگوں کی چرچے میں آنے میں غیر معمولی کمی کے باعث کرنا پڑا ہے۔عبادت کے اجتماعات حسب اوقات فری مین سوسائٹی کے ہال میں منعقد کئے جاتے ہیں۔آخری عبادت کے اجتماع میں جبکہ ایک مہمان پادری نے امامت کے فرائض سر انجام دیئے صرف انکیش آدمی حاضر تھے۔