تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 159 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 159

۱۵۹ قبول کرنے پر اصرار کرتے ہوئے یہ کہا کہ میری گزشتہ عمر گنہگاری میں گزری ہے اور خدا بجانے مین نے اپنے پروردگار کو ناراض کرنے کا کس قدر سامان کیا آج مجھے سکون قلب عطا ہوا ہے اس کے مقابلہ میں تبلیغ اسلام کے لئے میری یہ پونجی بالکل بے حقیقت ہے آپ اس کو قبول کر لیں۔پھر سختی سے انہوں نے یہ کہا کہ قربانی کے راستہ میں آپ کا میرے لئے روک بننا کیسی طرح بھی جائز نہیں، یہ آپ کی ذات کے لئے نہیں بلکہ اسلام کی خاطر پیش کر رہی ہوں۔آپ اگر اسلام کے لئے اپنی تمام مصروفیات کو قربان کر سکتے ہیں تو کیا میں یہ چھوٹی سی رقم اس کے لئے پیش نہیں کر سکتی ؟ آخرمیں نے وہ رقم لے لی اور حضور انور کی خدمت میں اس کا بیعت نامہ اور اس کا چندہ پیش کر دیا۔خدا تعالیٰ اس کے ایمان اور اخلاص کو ترقیات عطا فرما دے۔آمین خدا کے فضل سے یہ خاتون شریعت اسلامی کی پورے طور پر پابند ہیں۔پنجوقتہ نمازیں نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتی ہیں۔ماہ رمضان میں با وجود مشکلات کے آپنے سارے روزے رکھے اور راتوں کو عبادت میں صرف کیا۔الحمدللہ کہ خدا نے بعض نہایت عمدہ خوابوں اور شہارات کے ذریعہ سے اس کے ایمان کو تقویت دی۔عرصہ زیر رپورٹ میں بعض دیگر تقاریب میں بھی وقتاً فوقتاً شامل ہونے کا موقعہ ملا مگر اپنے طور پر جو تقاریب منعقد کیں وہ عیدین کی تقاریب تھیں۔ان دونوں موقعوں کے انتظام میں برادرم مسٹر العطاس نے نہایت اخلاص سے حصہ لیا۔پہلی عید پر تو چھ سات افراد ہی تھے مگر دوسری عید میں چودہ پندرہ احباب شامل ہو گئے۔برادرم مسٹر کارخ بارن سے ، نواحدی ناتون رضیہ سلطانہ خواسل سے مسٹر کو بے ایمسٹرڈم سے بعض طلبہ لائیڈن سے اور بعض ہیگ سے۔خدا کے فضل سے یہ اجتماع اچھا کامیاب رہا۔عید کے بعد کھانے کا انتظام بھی کیا گیا تھا چنانچہ دو گھنٹہ کی دلچسپ گفت گو کے بعد سب نے اکٹھے ظہر و عصر کی نماز پڑھی پھر کھانا کھایا پھر اس اجتماع کا فوٹو لیا گیا۔اس عید کے موقعہ پر سوئٹزرلینڈ سے دو واقفین بر اور ان کی آمد کی خبر بھی مل گئی تھی چنانچہ خطبہ میں ہی میں نے یہ خبر احباب کو بتا دی جس سے احباب بہت خوش ہوئے۔