تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 139
۱۳۹ سب کو اپنے فضل سے جزائے خیر بخشے۔آمین) مسٹر عبدالرشید فوگل کے پیغامات پیش کرنے کے ساتھ تقاریر کا پروگرام ختم ہوا یا کسار نے میٹنگ کے سٹیج پر ہی مسجد محمود کی چابی زیورک کے پریذیڈنٹ محترم ڈاکٹر ایمیل لائڈ الٹ کو دی کہ وہ ایسی قصبہ کے میزبان کے جذبہ کے اظہار کے طور پر محترم موہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو پیش کریں۔انہوں نے مائیکرو فون پر آکر چند کلمات کے ساتھ چاندی کی طشتری میں یہ چابی ختم چو ہدری صاحب کو پیش کی۔چوہدری صاحب یہ بھابی لیتے ہوئے انبوہ کثیر کے ساتھ مسجد کے دروازہ کی طرف بڑھے اور اللہ کے نام کے ساتھ اس خدا کے گھر کا دروازہ کھولا۔محترم کریم الہی صاحب ظفر مبلغ سپین نے مائیکرو فون پر جو بالکونی میں رکھا ہوا تھا پہلی اذان دی۔محترم چوہدری صاحب نے نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائیں اور اس طرح مسجد محمود کی تقریب افتتاح تکمیل پذیر ہوئی، الحمد للہ۔اُوپر کی منزل میں مسجد ہے اور نیچے کی منزل میں رہائشی کمرے ہیں۔افتتاحی تقریب کے بعد مہمانوں کے لئے اکل و شرب کا انتظام تھا۔برادران و خواتین کی کمروں میں ڈیوٹیاں تقسیم تھیں میتلقین کرام بھی اس خدمت میں حصہ لے رہے تھے جگہ کی تنگی اور مہمانوں کی کثرت کے باعث انتظامات میں خاصی وقت تھی اور پھر بعض چیزیں اپنے طور پر بھی تیار کرنی تھیں۔تین خواتین نے دن رات کام کیا۔ان میں سے ایک جس نے حال ہی میں بیعت کی ہے خاکسار کی امداد کے لئے پندرہ دن کی اپنے دفتر سے خصیت حاصل کر لی ہوئی تھی اور ٹائپ، سائیکلوسٹائل ، خطوط، پریس سے رابطہ و غیرہ سیکرٹری کا جملہ کام شب و روز محنت سے کیا۔تمام امور کو نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیا۔اس موقعہ پر میاں مسعود احمد صاحب جہلمی امام مسجد فرینکفورٹ نے مسلسل بہت ہمت سے کام کیا، جزاکم اللہ محرم چوہدری عبد اللطیف صاحب مبلغ جرمنی آغاز کار میں خاکسار کی اعداد فرماتے رہتے ہیں اور اب افتتاح کے ضمن میں انہوں نے بہت امداد کی اللہ تعالیٰ سب کو اپنی جناب سے جزائے خیر بخشے ، آمین۔۲۲ جون کو شام چوہدری صاحب اور مبلغین کرام کے اعزاز میں ڈنر کا اہتمام تھا جس میں احباب جماعت اور بعض دیگر دوست شریک ہوئے۔۲۳ جون بروز اتوار صبح نو بجے۔یورپین مشتر کا نفرنس شروع ہوئی۔محترم چوہدری صاحب نے دعا اور تقریر سے اس کا افتتاح فرمایا۔