تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 91
41 پھر پولیس میں چھپنے لگا شروع میں اسے اگر چہ سوئٹزرلینڈ کے مخصوص حالات و کوائف کو پیش نظر رکھ کر ہی مرتب کیا جاتا تھا اور زیادہ تر اسی میں اشاعت پذیر ہوتا تھا مگر جوں جوں تبلیغی دنیا میں اس کی اہمیت و ضرورت پڑھتی گئی اور اس کے مندرجات و مضامین میں خاص تنوع اور محققانہ رنگ نمایاں ہوتا گیا تو اسے سویڈن ڈنمارک، ناروے، آسٹریا، جرمنی، ہالینڈ، فرانس، مشرقی جرمنی، انگلستان، اسپین ، یوگوسلاویہ، پولینڈ لڑکی فلسطین، مصر، افریقہ کے ممالک، شمالی امریکہ ، کینیڈا، انڈو نیشیا ، پاکستان میں بھی بھیجوایا جانے لگا۔یہ ماہنامہ اب تک نہایت با قاعدگی اور اہتمام کے ساتھ جاری ہے اور اس کی ادارت کے فرائض مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ مجاہد اسلام سوئٹزرلینڈ، مکرم مسعود احمد صاحب ایم۔اے اور ڈاکٹر ایم۔اے۔اپنے بچوسی (51 M۔A-H۔CHUS ) بجالا رہے ہیں۔تبلیغی ٹریوں اور جرمن ترجمہ قرآن با شب برای دو روی زبان کے پلیٹو نے جو جاہ میں ان جرمن مجاہدین اسلام لنڈن سے چھپوا کر لائے تھے سوئٹزرلینڈ کے کی اشاعت اور اس کے وسیع اثرات باشندوں میں میں اسلامی خیالات و افکار کا پیلا جی صحیح بو دیا تھا مگر خدا کے فضل اور اس کی توفیق سے اس بیج کے بڑھانے اور بالآخر ایک ایسے تناور درخت کی شکل دینے کے لئے جس کی دور دور تک پھیلی ہوئی شاخوں پر حق جوئی کے پر ندسے آرام کر سکیں ایک نهایت بلند پایہ علمی اور وسیع لٹریچر درکار تھا یہی وجہ ہے کہ شیخ ناصر احمد صاحب نے جرمن زبان پر عبور حاصل کرتے ہی جرمن لٹریچر کی طرف اپنی پوری توجہ مبذول کر دی اور سب سے پہلے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت ، مقام، اعلان بریشی، کرسمس اور سال نو کے پیغامات پرشتمل چار ٹریک کے مشن کی طرف سے چھپوا کر ملک میں تقسیم کئے نیز ان اخبارات و رسائل کو بھجوائے جن میں احمدیہ مسلم میشن سوئٹزرلینڈ کی نسبت مضامین شائع ہوئے تھے اور جن کی تعداد با وان تھی کہ ان ٹریکٹیوں کے بعد آپ نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر ایک کتا بچہ بھی شائع کیا اور زیورک کے له الفضل الوار شهادت اپریل انی له لا له الفضل ، در تبلیغ فروری همت / موخر الذکر ٹریکٹ کا نام "ندائے آسمانی تھا جس میں حضرت مسیح موعود کی تحریرات سے چھ مختلف اقتباسات جمع کئے گئے تھے۔یہ ٹریکٹ بذریعہ ڈاک ممتاز شخصیتوں کو بھجوایا گیا۔اس ٹریکٹ کے اخراجات کا بڑا حصہ چوہدری ظهور احمد صاحب با جوه تبلیغ انگلستان نے اپنے دادا مرحوم کی رُوح کو ثواب پہنچانے کے لئے ادا کئے۔(الفضل ۲۱ صلح جنوری الفضل و صلح ر جنوری ما /