تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 52 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 52

۵۲ بایں غرض صدر انجمن احمدیہ پاکستان نے یہ طے کیا کہ سردست صدر انجمن احمدیہ قادیان ہی کے قومند ضوابط اس نئی انجمن کے متصور ہوں۔نیز ناظر صاحب دعوة و تبلیغ و ناظر صاحب امور عامه و خارجه و تعلیم و تربیت و نائب ناظر بیت المال پر مشتمل ایک سب کمیٹی مقرر کی گئی جو دو ہفتوں کے اندر اندر تمام قواعد و ضوابط کو ترتیب دے اور ۲۸ تبوک ستمبر تک اس کی رپورٹ مجلس میں پیش کرے۔کام کو جلد نپٹانے کے لئے یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فی الحال ایک ہفتہ تک روزانہ پانچ بجے شام ممبروں کا اجلاس ہوا کہ ہے۔کورم چار کا تجویز کیا گیا اور دفاتر صدا امین احمدیہ پاکستان کے کھلنے اور بند ہونے کے حسب ذیل اوقات مقرر ہوئے :- و بجے صبح سے ۵ بجے شام تک وقفہ یا انجے سے ۳ بجے دوپہر تک) ہے حضرت امیر المومنین نے ارشاد فرمایا تھا کہ صدر امین احمدیہ لاہور کے لئے ایک آڈیٹر مقرر کیا بھائے تو جماعت لاہور کے مہمان نوازی اور اُن دیگر اخراجات کی بھی پڑتال کرے جوق دیان کے RVACUEE کے سلسلہ میں کئے گئے ہیں۔بچنا نچہ اس کی تعمیل میں صدر انجین احمدیہ لاہور نے اپنے پہلے اجلاس میں بابو عبد الحمید صاحب آڈیٹر کو مقرر کیا۔حضرت خلیفتہ البیع الثانی الصلح الموعود نے یہ بھی فیصلہ فرمایا تھا کہ صدر امین احمدیہ لاہور کوبھی تحریک تجدید کی طرح رجسٹر کروالیا جائے اور یہ کام جلد ہو۔چنانچہ یہ کام اس اجلاس میں شیخ بشیر احمد صاحب اور چوہدری اسد اللہ خاں صاحب کے سپرد ہوا۔محکمہ جات نے چونکہ ابھی بجٹ نہیں بنایا تھا اور مہنگا می کاموں پر پے در پے اخراجات ہو رہے کھتے جس کی مقدار چار ہزار تک پہنچ چکی تھی اس لئے صدر انجمن احمدیہ نے اپنے ۱۳ تبوک / ستمبر کے اجلاس میں نظارت علیا کو مدامانت سے مبلغ دس ہزار روپیہ بطور قرض لینے کی اجازت دی بیله بلیٹین کی اشاعت اور لنڈن مشن کو "الفضل“ جو جماعتی خبروں کا ترجمان اور بیرونی جماعتوں سے رابطہ کا اہم ترین ذریعہ تھا پاکستان روزانہ اطلاعات بھیجوانے کا انتظام یسے ابھی جاری نہیں ہو ا تھا اور قادیان میں اس کی صورت مخدوش حالات کے باعث محض ایک مقامی ایڈیشن کی رہ گئی تھی۔ے ویسے ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ پاکستان د میشه ار تبوک استمبر ۱۳۲۷ میش کو " الفضل قادیان کا آخری پرچہ شائع ہوا۔