تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 323 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 323

۳۲۲ چیف پیلیٹی آفیسر گل احمد خاں کو شہ (راقم الحروف) میٹنگ میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ خواجہ انور صاحب کو سرینگر فوراً روانہ کر دیا جائے۔اور انہیں مکمل اختیار دے دیا گیا کہ وہ جنہیں مناسب سمجھیں انڈر گراونڈ گورنمنٹ میں وزیرہ یا عہد یدا بنائیں چنانچہ ریڈیو سے ۴- ۵ اکتوبر کو پے در پے " عارضی جمہوریہ حکومت کشمیر" ست ۱۹۱۴ تم کے قیام کا اعلان بمقام مظفر آباد ہوتا رہا۔خواہ انور بانی صدرہ ار اکتوبر کو راولپنڈی سے روانہ ہوئے۔اسی روز انہیں مسٹر عبدالرحیم درانی دو میل مل کے پاس ملے تو انہیں ڈیفنس سکریڑی مقرر کر کے کشمیر چھوڑنے کو کہا۔خواجہ غلام دین صاحب وانی کو بھی منظفر آبا و چھوٹے نے کو کہا۔اور ان دونوں صاحبان کو فوری لاہور مرزا صاحب کے پاس جانے کو کہا گیا۔۴ اکتوبر 19ء میں یہ فیصلہ بھی ہوا تھا کہ وزیر مالیات سید نذیر حسین شاه هنا وزیر دفاع مولوی غلام چید صاحب جنڈالوی ، گل احمد خان کو شہ راقم الحروف) اور دیگر لیڈران تحریک جناب مرزا صاحب کی خدمت میں لاہور پہنچ جائیں گے اور مشورہ کریں گے۔کیونکہ اس وقت حالت یہ تھی کہ مغربی پاکستان اور کشمیر کی آزادی دونوں خطرے میں نظر آ رہی تھیں اور عارضی حکومت کا اعلان اخبارات میں چھپ چکا تھا۔مگر ان مذکورہ بالا آدمیوں کے سوا کسی کو علم نہ تھا کہ یہ اعلان کس نے کیا اور کیسے ہوا ؟ خواید غلام نہیں گلکار اور صاحب بانی صدر در اکتو بر سر کو شیخ محمد عبداللہ صاحب کے مکان واقع سورہ سرینگر پر لے - 1 گھنٹے باتیں ہوئیں۔آخر میں یہ طے پایا کہ ان کے اور لے کو ۲۲ را کشوریہ قائد اعظم کے درمیان ملاقات کا بندوبست کر دیا جائے۔عمر اکتوبر سا شہر ہے۔۱۹ تک گویا ۱۵ یوم کے عرصہ میں پچھان بین کر کے حسب ذیل وزراء اور عہد یدار مقرر ہوئے۔وزیر تعلیم مسٹر علیم دڈاکٹر نذیرال اسلام صاحب پی۔ایچ۔ڈی) وزیر صحت و صفائی۔مسٹر لقمان ( ڈاکٹرو زیر احمد صاحب قریشی مرتوم۔۔۔سابق لملحقہ آفیسر سرینگی ملہ اصل نام مصلحتاً پوشیدہ رکھے گئے اور ان کی بجائے ان کے متبادل نام رکھے گئے تھے تاکہ ان کو کام کرنے میں آسانی ہو (مؤلف) :