تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 62
۶۲ طلبہ میں اردو اور انگریزی میں تقریر کا ملکہ پیدا کرنے کے لیئے اخوند عبد القادر صاحب کالج یونین کی بنیاد ہے۔اس کی زیر نگرانی پیش کے دوران ہی کالج یونین قائم کی گئی ہے اسی طرح ایکٹنگ کلب اور بعض اور سوسائٹیوں کا قیام بھی مل میں لایا گیا ہے مجلس تعلیم نے سیدنا حضرت الصلح الموعود کی منظوری کے بعد سرو فار جولائی احمدی طلبہ کیلئے دینی نصاب سے مشن کو انٹریٹر یٹ کلاس کے احمدی طلبہ کے لئے حسب ذیل دینی نصاب مقدر کی جا قرآن شریف ناظرہ مع ایسے ترجمہ کے جو اس کے مطالب کو واضح کرنے والا ہو حفظ ربع آخر پارہ ہم ۲- حديث عمدة الاحكام ے رپورٹ تعلیم الاسلام کالی به مش (غیر مطبوعہ) * یش میں کالج کی ہائیکنگ پارٹی چودھری محمد علی صاحب ایم۔اے کی قیادت میں پانگی (ریاست چمبہ کے علاقہ میں گئی۔یہ پارٹی حسب پروگرام از وفار جولائی کو قادیان سے روانہ ہوئی اور و ظہور / اگست کو بخیریت واپس پہنچی۔اس ہندو ریاست میں طلبہ سے نہایت تنگدلانہ اور متعصبانہ سلوک روا رکھا گیا۔جس کی مفصل اطلاع چودھری صاحب نے حضرت امیر المومنین المصلح الموعود کے تصور بھی کر دی چنانچہ انہوں نے لکھی " حضور کے خدام کا لج ہائیکنگ پارٹی اس وقت کھنڈر پانگی میں چار روز سے ٹھیرے ہوئے ہیں۔اس جگہ سارے پانی میں جہانتک خاکسار کے علم کا تعلق ہے میر ایک سنار مسلمان ہے۔باقی سب کٹر ہندو ہیں۔یہاں پر ایک بنگالی " سوامی بھی “ ہیں۔انہوں نے ہمارے راشن اور قلیوں کی فراہمی میں سخت وقت پیدا کی ہے۔یہاں سرکاری ڈپو ہے اور آٹا وغیرہ یہاں سے ملتا ہے۔لیکن پہلے ہی دن سوامی جی نے خود اگر فریو والے کو ہمیں آٹا دینے سے روک دیا۔سوامی جی کا لوگوں میں بہت رسوخ ہے۔یہاں تک کہ سرکاری ملازمین اور افسروں کا راشن بھی بعض اوقات بند کر دیتے ہیں۔یہاں پر کچھ آریہ سماجی بھی آئے ہوئے ہیں وہ بھی شرارت کر رہے ہیں۔پارٹی کا پروگرام ٹوٹ رہا ہے اور جب تک راشن نہ ہی واپس آنا سخت مشکل ہے۔پانگی کی چڑھائی اور میل با میل برف پر چلنے کی وجہ سے اور بارش میں بھیگ جانے کے باعث اور خوراک کی قلت کے سبب پارٹی کے اکثر ممبر بیمار ہو چکے ہیں۔اگرچہ یہاں ہسپتال ہے اور ڈاکٹر صاحب جو نہایت شریف آدمی ہیں ہماری مدد کر رہے ہیں اور ہمارے اپنے پاس بھی کچھ دوائیاں ہیں پھر بھی پانگی کا راستہ واپس ملے کرنا مشکل ہے جبتک پورا سامان خوراک نہ ہو اور قلی نہ ہوں۔قلبیوں کو بھی سوامی جی نے بہکا دیا ہے۔یہاں لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ لوگ ہمارا دھرم بھرشٹ کرنے آئے ہیں" (الفضل ۱۲ ظهور اگست ) چودھری محمد علی صاحب کا بیان ہے کہ "جب ہم واپس ڈلہوزی پہنچے تو حضور رضی اللہ تعالے کی خدمت میں اطلاع بھیجی حضور بلا توقف، بے تابانہ ، ایک ہاتھ میں قلم ، ایک میں کاغذ ، پیشانی مبارک پر چشمہ تنگے سر ننگے پاؤں سیڑھیوں کے پاس تشریف لے آئے۔ہم دوڑ کر حضور کی خدمت میں پہنچے۔سلام عرض کرنے کی سعادت حاصل کی اور حضور اسی حالت میں حالات دریافت فرماتے رہے " ہے سے رجسٹر کا رروائی مجلس تعلیم قرار داد ۰۵۵۱۵۴ 91904