تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 714
صاحب کے مکان (واقع دارالعلوم ) سے متصل اپنے مکان وار الصفہ میں رہائش پذیر ہو گئے تھے لیے یوں تو آپ پیش کے بعد قریبا بیمار ہی پہلے آرہے تھے مگر ماہ امان شہادت / مارچ - اپریل ہی میں آپ کو دمہ کے شدید دور سے شروع ہو گئے اور وسط ماہ احسان / جون میں آپ کی حالت بہت زیادہ نازک ہوگئی اور تم بہرتی 71906 کی حالت طاری ہوگئی۔چنانچہ حضرت مصلح موعود نے ہم وفا جولائی یا مہش کے خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کو آپ کے لئے تحریک دعا کرتے ہوئے فرمایا :- فوٹو ڈاکٹر میر محمد المعیل صاحب قریباً ایک ماہ سے سخت بیمار ہیں اور اب وہ بہت ہی کمزور ہو چکے ہیں اور دو دن سے ان پر قریباً بیہوشی کی سی حالت طاری ہے۔ہماری جماعت ابھی تک بہت سی تربیت کی محتاج ہے اور تربیت کے لئے صحابہ کا وجود بہت ضروری ہے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام کے بہت تھوڑے صحابہ باقی رہ گئے ہیں خصوصاً ایسے صحابہ تو حضرت مسیح موعود علیدات لام کے ابتدائی زمانہ کے حالات سے واقف ہیں اور جنہوں نے آپ کے ابتدائی ایام سے ہی آپ کی صحبت سے فیضان حاصل کئے تھے ان کی تعدا بہت ہی کم رہ گئی ہے اس لئے ایسے لوگوں کا وجود جماعت کی ایک قیمتی دولت ہے اور جتنا بقنا یہ لوگ کم ہوتے پہلے جاتے ہیں اتنا ہی جماعت کی روحانی ترقی بھی خطرہ میں پڑتی چلی بجاتی ہے۔اور چونکہ صحابہ کا وجود ایک قومی دولت اور قومی خزانہ ہوتا ہے۔اس لئے جماعت کے افراد پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ایسے موقعہ پر خاص طور پر دعائیں کریں تاکہ یہ خزانہ ہمارے ہاتھوں سے بھانا نہ رہے اور اللہ تعالے صحابہ کے وجود کہ ایک لمبے عرصہ تک قائم رکھے تاکہ جماعت ایسے مقام پر پہنچ جائے کہ وہ روحانی طور پہ اپنے پاؤں پر آپ کھڑی ہو سکے اور جماعت کے اندر ایسے نئے وجود پیدا ہو جائیں جو اپنی قربانی اپنے اخلاص اونہ اپنے تقویٰ کے لحاظ سے صحابہ کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہوں۔جہانتک جانی اور مالی قربانیاں کرنے والے ہیں اور اس کے لئے ان کے اندر بہت زیادہ جوش بھی پایا جاتا ہے مگر روحانی رنگ ظاہری قربانیوں سے پیدا ہوتا ہے۔اللہ تعالے له حضرت مولانا شیر علی صاحب شروع میں دار آسیح اور اس کے قرب وجوار میں رہتے تھے ائر کے آخر میں آپ نے دارالعلوم میں اپنے رہائشی مکان کی بنیاد رکھی اور اس کے بعد جلد ہی نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب نے حضرت ڈاکٹر صاحب کا مکان "دار الصفہ " بنوایا جہاں پہلے پہل حضرت ڈاکٹر صاحب کے بسلسلہ ملازمت باہر رہنے کے ایام میں آپ کے چھوٹے بھائی حضرت میر محمد اسحاق صاحب اپنے مناندان سمیت لمبے عرصہ تک قیام فرما رہے۔الفض سوق الجولائی میں صفحہ اکالم 1 : ۱۳۲۶ ش ۱ " و