تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 712
790 ایک نیا وجود بن گئے۔اسی طرح ہمارے نوجوانوں کو علم تو حاصل ہو گیا ہے۔مگر اب وہ جتنا جتنا روحانیت کے میدان میں بڑھیں گے اور اپنے تقوی اور نیکی کو ترقی دیں گے اتنا ہی وہ بلند مقام کی طرف پرواز کریں گے۔جہانتک کام کرنے کا تعلق ہے مولوی صاحب میں کام کرنے کی انتہائی خواہش تھی لیکن تنظیم کے معالہ میں وہ زیادہ کامیاب نہ بجھتے۔ہاں ایک کام ہے جو اُن کے سپرد ہوا اور انہوں نے اس میں کمال کر دیا اور وہ کام ان کی ہمیشہ یادگار رہے گا۔جس طرح لنگر خانہ اور دار الشیوخ میر محمد اسحاق صحبت کے ممنونِ احسان ہیں اسی طرح وصیت کا انتظام مولوی سید سرور شاہ صاحب کا ممنون احسان ہے مولوی صاحب نے جس وقت وصیت کا کام سنبھالا ہے اس وقت ہمیشکل وصیت کی آمد پچاس ساٹھ ہزار تھی مگر مولوی صاحب نے اس کام کو ایسے احسن طور پر ترقی دی کہ اب وصیت کی آمد پانچ لاکھ روپیہ سالانہ تک پہنچ گئی ہے۔آپ کو وصیت کے کام میں اس قدر شغف تھا کہ آپ بہت جوش و خروش کے ساتھ اس کام کو سر انجام دیتے تھے کیونکہ نظام وصیت حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کا قائم کردہ ہے اور آپ نہیں چاہتے تھے کہ اس میں کوئی کمزوری واقع ہو جائے۔یہ آپ ہی کی محنت اور کوشش کا نتیجہ ہے کہ اب ہمارے چندہ عام سے چندہ وصیت زیادہ ہے۔یہ کام ہمیشہ کے لئے آپ کی یادگار رہے گا۔بهر حال مولوی صاحب کی وفات سے جماعت کا ایک بہت بڑا نقصان ہوا ہے اور ان کی اولاد کا تو دوہرا نقصان ہوا ہے بلحاظ اولاد ہونے کے بھی اور بلحاظ احمدی ہونے کے بھی ان کو دوبھرا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔مولوی صاحب با وجود ۸۴ سال عمر پانے کے آخری دم تک کام کرتے رہے یہ اہ حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب نے مندرجہ ذیل لٹریچر بطور علمی یادگار چھوڑا :- -1 القول الحمود في شان الحمود -۲ خلافت حقه ۳ کشف الاختلاف - تفسیر سروری 4- حمائل شریعت مترجم سے " الفضل" سوار احسان اجون ۲۳ سایش صفحه ۳ تا ۵ : ۲۱۹۴۷ الفاروق نه ترینه اولاد : سید مهم ناصر شاہ صاحب سکول ٹیچر آزاد کشمیر سید مبارک احمد شاہ صاحب شرور انسپکیر وصایا ریوه به