تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 612
۵۹۹ کرتے ہوئے آخر میں فرمایا :- اس وقت تمام دنیا میں اسلام پھیلانے اور لوگوں کے قلوب کو فتح کرنے کی ذمہ داری ہماری ہے۔یہ خیال کبھی دل میں نہیں لانا چاہیئے کہ یہ ذمہ داری کسی اورکی ہے۔جب تم یہ اچھی طرح ذہن نشین کرو گے تو دنیا جب میں کوئی تمہارا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔تم جہاں جاؤ گے تمہارے رستہ سے رکھا دیں خود بخود دور ہوتی چلی جائیں گی، مثل مشہور ہے ہر فرعونی را موسی۔جسطرح ہر موسیٰ کا مقابل ہر فرعون نہیں کر سکتا اسی طرح ہر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ بھی ر اب میں نہیں کر سکتا۔تم اگر چھوٹے محمد صلی الہ علیہ سلم ابن ا گئے تو کتنے بھی ابو جہل تمہار سے مقابلہ کے لئے اٹھیں، مارے بھائیں گے۔پس آج آپ سب لوگ عہد کہ ہیں کہ اسی دہلی میں جہاں سے پہلے پہل اسلام پھیل اور دور دارا نہ تک پہنچے گیا تھا آپ بھی اپنی تبلیغی کوششوں کو تیز کر دیں گے۔اس وقت تمام مسلمان کہلانے والے تبلیغ سے بالکل غافل پڑے ہیں۔اگر تبلیغ جاری رہتی توکوئی وجہ نہ تھی کہ اسلام پر زوال آسکتا۔پہلی پانچ صدیوں میں مسلمانوں نے ہندوستان میں تبلیغ پر زور دیا۔مگر پچھلی پانچ صدیوں والے سست ہو گئے۔مگر اب خدا تعالیٰ کا منشاء ہے کہ پھر تمام دنیا اسلام کی آغوش میں آجائے۔ہندوستان مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مولد ہے۔اس لئے بھی اور اس لئے بھی کہ دہلی ہندوستان کا صدر مقام ہے دہلی دلوں پر خاص کر بہت زیادہ ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں۔ہندوستان میں اس وقت چائیں کر وہ آدمی بہتے ہیں ان میں سے دس کے دور مسلمان ہیں گو یا ان حصہ آبادی کو حضرت معین الدین چشتی حمتہ الله علیها در قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللّہ علیہ حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے بزرگان نے مسلمان کیا۔اب تمہارے لئے موقع ہے کہ اس کام کو سنبھالو۔تین چوتھائی کام تمہارے حصہ میں آیا ہے۔خداتعالی مجھ کو اور تم کو اس فرض کے ادا کرنے کی توفیق بنے۔وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین کے یاتی خرید بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ حضرت مصلح موعود قریبا تین ہفتے تک دہلی میں تشریف فرما ر ہے اس دوران میں جماعت احمدیہ دہلی نے مہمانی نوازی کا حق ادا کر دیا جس پر حضور نے اپنی اس آخری تقریر میں اظہار خوشنودی کہتے ہوئے فرمایا :- ر جماعت وہلی نے جس جہان نوازی کا نمونہ دکھایا ہے گو سے مکمل نہ کہا جا سکے مگر یقینا وہ دوسری جماعتوں کیلئے نمونہ ہے۔ہماری مہمان نوازی چودہری شاہنواز صاحب نے کی جس میں ان کی اہلیہ صاحبہ کا بہت سا حصہ ہے۔فجزاها الله احسن الجزاء باقی ساتھیوں اور مہمانوں کی مہمان نواندی تین ہفتے متواتر جماعت احمدیہ دہلی نے کی۔اور بعض لوگ اتفضل دار نبوت / نومبر و مش مت - آخری کالم به