تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 597
ارا اور اکتوبر کو زیوریج میں وارد ہوئے۔اگلے سال حافظ قدرت اللہ صاحب ساروفا جولائی ہے کہ مہش کو ہالینڈ پہنچے ان کے علاوہ ۱۳۳۵ و پیش میں مولوی غلام احمد صاحب نے عدن میں یوسف سلیمان صاحب نے جنوبی افریقہ میں اور مولوی حمد ہد ہدی صاحب نے اور نیو میں نئے مشن قائم کئے ملکی تفصیل تاریخ احمریت کی گیار ہوں جلد میں درج کی جائے گی۔انشاء الله۔ی کی اور کو سیندگانی امریکا سید نا حضرت مصلح موعود کی خدمت میں بعض ایسے مقدمات بھی آتے رہتے تھے جن میں میاں بیوی کی طرف کر چھوٹی چھوٹی باتوں کو وجہ نزاع بنا لیا جاتا تھا اور طلاق اور ضلع تک نوبت پہنچ جاتی تھی۔حضرت مصلح میشود نے اس نہایت افسر سمیناک اور نا پسندیدہ طریقی کی روک تھام کے لئے اور ماہ احسان ارجون مش کو مفصل خفیہ بجوار شاد فرمایا جن میں احباب جماعت اور قاضیان سلسلہ دونوں کو بہت پر حکمت ہدایات دیں اور انہیں زوجین کے جھگڑوں کو سنجیدگی سے سلجھانے کی تلقین کی۔چنانچہ فرمایا :- چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے تعلقات کو خراب کرنا عقلمندوں کا کام نہیں ہوتا۔میرے نزدیک اگر بیوی میں کوئی غلطی ہے تو اس کی اخلاقی اصلاح ہونی چاہیئے۔لیکن اُسے چھوڑ دینے پر آمادہ نہیں ہونا چاہیئے۔ہیڈ ماسٹر لڑکوں کو سبق دیتا ہے کیا جوڑ کے سبق یاد نہیں کرتے انہیں سکول سے نکال دیتا ہے۔اسی طرح انسانوں میں غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔کوتا ہیاں بھی ہوتی ہیں۔کمزوریاں بھی ہوتی ہیں۔لیکن مومن کا کام ہے کہ ان کو دور کرنے کی کوشش کرے اور وہ جنس جسے اللہ تعالیٰ نے مقدس بنایا ہے اُسے بازار میں کہنے والی جنس نہ بنا دے۔پس میں جما عت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اُسے ایسے بھگڑے نہایت سنجیدگی کے ساتھ سلجھانے کی کوشش کرنی چاہئیے۔اور میں قاضیوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں ایسے معاملات میں نہایت احتیاط سے کام لینا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔میں قاضیوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ ایسے معاملات میں وہ کسی فریق کے وکیل کو قریب بھی نہ آنے دیں اور وہ بجائے قاضی کے باپ بننے کی کوشش کریں۔اور لڑکے کو اپنا بیٹا مجھیں اور لڑکی کواپنی بیٹی جھیں میں طرح باپ اپنے بچوں کو سمجھاتا ہے۔اُسی رنگ میں اُن کو سمجھائیں اور شریعت کے مسائل اُنہیں بتائیں اور انہیں طلاق اور ضلع کے نقصانات بتائیں کہ اس کی عام ہونے سے قوم کے اخلاق گر جاتے ہیں جنکی اولاد موجود ہو گی جب وہ بڑے ہوں گے تو ان پر کیا اثر پڑے گا کہ ہمارے ماں باپ نے معمولی سی بات پر بھلائی اختیار کر لی تھی اور دو اپنے ماں باپ سے کو سانیک نمونہ حاصل کریں گے اور ایسی اولاد کیسے ترقی حاصل کر سکتی ہے۔پس یہ چیزیں اطلاق کو سنوار نے