تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 43 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 43

۴۳ ہیں جن کو ایلیون پونڈر گنز ) ELEVEN POUNDER GUNS) اور ELE) اور سیون ٹی فائیو ملی میٹر گفت ( SEVENTY FIVE M-M GUNS)۔بمشکل سر کر سکتی ہیں۔ان قلعوں کو وہ ان پتھروں یا غلیلوں سے کس طرح توڑ سکیں گے۔مگر ہو خدا کی طرف سے کام ہوتے ہیں وہ اسی طرح ہوتے ہیں۔پہلے دنیا ان کو دیکھتی ہے اور کہتی ہے ایسا ہونا نا ممکن ہے۔مگر پھر ایک دن ایسا آتا ہے جب وہی دنیا کہتی ہے اس کام نے تو ہونا ہی تھا کیونکہ حالات ہی ایسے پیدا ہو چکے تھے۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے تو لوگوں نے اس وقت یہی کہا کہ ان دعووں کا پورا ہونا نا ممکن ہے۔انہوں نے آپ کو مجنون کہا۔انہوں نے آپ کے متعلق یہ کہا۔اس شخص پر نعوذ باللہ ہمارے بتوں کی لعنت پڑ گئی ہے مگر آج یورپ کے مصنفوں کی کتابیں پڑھ کر دیکھ لو۔وہ کہتے ہیں اگر مسلمانوں کے مقابلہ میں قیصر کی حکومت کو شکست ہو گئی۔اگر مسلمانوں کے مقابلہ میں کوسری کی حکومت کو شکست ہو گئی۔اگر مسلمانوں کے مقابلہ میں دنیا کی قوم نہیں ٹھہر سکی تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں وہ زمانہ ہی ایسا تھا اور اس وقت حالات ہی ایسے پیدا ہو چکے تھے جو محمد صل اللہ علیہ وسلم کی تائید میں تھے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ محمد صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تو آپ کے دعوائے کو پاگل نہیں اور جنون سمجھا جاتا تھا۔مگر آج یہ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کے دھوانے کو لوگوں نے تسلیم کہ لیا تو اس میں کون سی عجیب بات ہے۔زمانہ کے حالات اس دعوئی کے مطابق تھے اور لوگوں کی طبائع آپ کے عقائد کو تسلیم کرنے کے لئے پہلے ہی تیار ہو چکی تھیں۔یہی اسمیت کا حال ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی کیا لوگ کہتے تھے کیا مکن ہے کہ یہ شخص دنیا پر فتح حاصل کر سکے۔یہ اپنی آئی آپ مر جائے گا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی تک نے یہ کہہ دیا کہ میں نے ہی اس شخص کو بڑھایا تھا اور اب میں ہی اس کو گراؤں گا (انشافتہ استہ جلد ۱۳ علا حشر) مگر آپ کے سلسلہ کو دن بدن ترقی ہوتی چلی گئی یہانتک کہ وہ شخص جسے قادیان میں بھی لوگ اچھی طرح نہیں جانتے تھے۔اس کی سماعت پہلے پنجاب کے مختلف حلقوں میں پھیلنی شروع ہوئی۔پھر پنجاب سے بڑھی اور افغانستان میں گئی ، بنگال میں گئی ، بیٹی میں گئی ، دار اس میں گئی ، یو پی میں گئی ، سندھ میں گئی ، بہار میں گئی ، اڑیسہ میں گئی ، ی پی میں گئی ، آسام میں گئی اور پھر اس سے بڑھ کر بیرونی ممالک میں پھیلنی مشروع