تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page vi
بد الله الرحيل الرئيسية ومواعيد المسيح الموعود پیش لفظ اللہ تعالے کی دی ہوئی توفیق سے ہم امسال تاریخ احمدیت کی دسویں جلد ، حباب کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔یہ جلد کی درد سے اگست شکل داد تک کے واقعات پر مشتمل ہے۔۳۱ اگست کشانده کوسید نا حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ قادیان سے ہجرت فرما کر پاکستان تشریف لے آئے اور جماعت احمدیہ کا نیا دور شروع ہوا ہندوستان کی آزادی اور پاکستان کے بننے کا جونہی اعلان ہوا۔قادیان کے اردگرد فسادات کا سلسلہ شروع ہوا اور نہتے مسلمانوں کو تہ تینہ کیا جانے لگا۔اور امن نختم ہو گیا۔اس بات کو دیکھ کر سیدنا حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جاعت کے اکابرین کے مشورہ سے یہ فیصلہ فرمایا کہ خاندان حضرت سیح موعودیه الصلاة والسلام کی خواتین مبارکہ کو فوراً پاکستان بھجوا دیا جائے۔چنانچہ ۲۵ اگست کو بسوں کا انتظام ہوا۔اور یہ قافلہ مصیح و بجے روانہ ہو کر شام کو لاہور پہنچا۔اس قافلہ میں سیدہ حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا اور خاندان مسیح ولا علیہ السلام کی خواتین شامل تھیں مردوں میں سے حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب اور مکرم و محترم مرز منصور احمد صاحب اس قافلہ کے ہمراہ تھے۔حضور نے فسادات کے پیش نظر جہاں یہ فرمایا کہ خواتین مبارکہ کو بحفاظت پاکستان پہنچا دیا جائے۔وہاں یہ بھی تفیصلہ فرمایا کہ خاکسار مصوبہ رضی اللہ عنہ کی تفسیر کے مسودات سے کہ اس قافلہ کے ساتھ لاہور چلا جائے۔بعد ازاں حضور نے مکرم ملک سیف الرحمن صاحب مکرم مولوی محمد صدیق صاحب اور مکرم مولوی محمد احمد قاتا، جلیل کے متعلق بھی حکم دیا کہ دو میں اس قافلہ میں لاہور چلے جائیں A ہمارا قافل صبح دینے قادیان سے چلا اور قومی اسکوٹ کے ساتھ لاہور پہنچا۔راستہ نہایت ہی پر خطر تھا۔کیونکہ سکھ اجباریکے ہجوم ہر جگہ جمع تھے ہمارے قاف کے اوپر حرم میں محمد حمد صاحب ہوائی جہاز پر پرواز کرتے رہے۔تا قافلہ کا حال دیکھتے رہیں۔اور واپس به گر قادیان حضرت خلیفہ المسیح اش اون بخواد منہ کو قافلہ کے بخیریت پہنچنے کی اطلاع کر سکیں الحمد هند که به تاخد بخیریت تو اسی سے ۱۲۱ اگست ۱۹۴۷ کو سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ نہ بھی ہجرت کر کے لاہور تشریف آئے اور از سر نو سنکہ انھیں فورت پاکستان کا قیام فرمایا۔اور جود حامل بنانگ میں دفاتر کا کام شروع ہو گیا۔اور با وجود افرا تفری اور پریشان کن حالات سے پھر سے جماعت کا نظام اور شیراز، تاکہ ہو گیا اور جماعت کا شجرہ عظیم جوخون کے آدمی سے بظاہر اکھٹا ہوا نظر آتا تھا اپنی ڑھوں تنے پر پھر سے قائم ہو گیا۔بعد از این مرکز بود کی بنیاد پڑی۔اور احدیت کی ترقی کا نیا دور شروع ہوگیا۔یہ میوہ ہیں جلدوں کی نہستہ تھیم میں زیادہ ہوگئی آئے کیو نکہ ہجرت تک کے واقعات پر اس جلد کو ختم کرتا تھا۔مولف کتاب مدھم مولا با دوست محمد صاحب اور جن احباب نے اس میلہ کے مواد کے لئے ان کی امداد فرمائی ان کا اور ان انجاب کا جنہوں نے کتابیت جماعت پر دنا ریڈنگ میں گنت شانہ برداشت کی۔ان کا شکر گزار ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تجائے ہماریاں بھی کو شہوں فراہئے۔اور اپنی جانب سے اجر عظیم عطا زیائے آمین در اسلام خاکسار: ابو امیر نور التی نیجنگ ڈائر یمیر ادارت مصنفین و ۲۵