تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 529
کی طرف سے چونکہ ظاہر یہ کیا جاتا ہے کہ ہم غرباء کی تائید اور ان کی مدد کے لئے کھڑے ہوئے ہیں اسلئے عام طور پر خواہ ہندو ہوں یا مسلمان اس عقیدہ کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔بلکہ ہندوستان میں بعض مولوی ایسے موجود ہیں جو عام طور پر کمیونزم کی تائید کرتے رہتے ہیں اسی طرح بعض مسلمان اخبارات کے ایڈیٹر ہیں جو اس کی تائید میں ن در شور سے مضامین لکھتے رہتے ہیں۔حالانکہ ان اقتصادیات کا ہمارے ملک سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔وہ اقتصادیات خالص بروس کی ترقی کے لئے ہیں اور روس ہی ان سے فائدہ اٹھارہ ہے۔مگربعض دفع ایک چیز ایسی خوشنما معلوم ہوتی ہے کہ انسان اسے لینے کی کوشش کرتا ہے خواہ وہ کتنی ہی مصر کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔بعض دفعہ انسان ایک چیز کو اچھا اور خوشنما کھتا ہے اور اُسے لینے کی خواہش کرتا ہے مگر وہ ہو تی بری ہے۔اللہ ہی جانتا ہے کہ کونسی چیز انسان کے لئے اچھی ہے اور کونسی بری۔وہ خدا جب سی آج سے اڑھائی ہزار سال پہلے حد قبل نبی کے ذریعہ اس فتنہ کی خبر دی تھی اس خدا کا یہ فعل ظاہر کر رہا ہے کہ اس فتنہ کو معمولی سمجھنا یا اس کے خطرناک نتائج سے اپنی آنکھیں بند کر لیا نادانی اور حماقت ہے۔آج کل کے لوگوں کے متعلق تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ نہیں کمیونزم سے حسد ہے بغض اور کینہ ہے جو اُن کے دلوں میں پایا جاتا ہے یا وہ پرائی لکیر کے فقیر ہیں۔یا ایسے جاہل ہیں کہ اقتصادیات کے فلسفہ کو نہیں سمجھ سکتے۔مگر سوال یہ ہے کہ آج سے پچیس سو سال پہلے حزقیل نبی کو کس نے اس فریب اور دعا میں شامل کر لیا تھا۔آخر یہ کیا بات ہے کہ حز قیل نبی نے آج سے پچیس سو سال پہلے یہ خبر دی جو آج بھی با تکمیل میں کبھی ہوئی موجود ہے۔کیا کوئی کہ سکتا ہے کہ حز قیل نبی کو آج کل کے زمانہ کے لوگوں نے اس قریب میں شامل یا تھا۔کیا اینٹی کمیونزم پالیس کو اختیار کرتے وقت ہیکر نے حزقیل کے منصوبہ کیا تھا۔یا کیا مسولینی نے کمیونزم کے خلاف اپنی جدو جہد جاری رکھنے کے لئے حز قیل سے منصوبہ کر لیا تھا ی کیا انگلستان کی کسی اینٹی کمیونزم پارٹی نے حزقیل سے منصوبہ کر لیا تھا یا امریکہ کے رہنے والوں میں سے کسی شخص میں یہ طاقت تھی کہ وہ آج سے پچیس سو سال پہلے کے کسی نبی سے اپنی تائید میں کوئی خبر کھو اسکتا۔اور اگر کسی آدمی میں یہ طاقت ہو سکتی ہے کہ وہ پچیس سو سال پہلے اپنے متعلق کوئی خبر رکھوا دے۔تو وہ آجکل کے لوگوں سے کیا ڈر سکتا ہے۔جو شخص ایسا کر سکتا ہے اسکے متعلق یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ وہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کو بھی سیامیٹ کر سکتا ہے۔