تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 490
فرمانروا خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو نسل شیروانی افغان ہے اور جس کی جدا مجد ایک باخدا بزرگ حضرت شیخ صدر جہاں شہر میں جلال آباد سے ہندوستان تشریف لائے اور سلطان بہلول لودھی کی بیٹی سے بیا ہے گئے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :- " سبھی فی اللہ نواب محمد علی خانصاحب رئیس خاندان بیاست مالیر کوٹلہ یہ نواب صاحب ایک معزز خاندان کے نامی رتیں ہیں۔مورث اعلیٰ نواب صاحب موصوف کے شیخ صدر جمہان ایک ا غدا بزرگ تھے جو اصل باشنده جلال آباد سروانی قوم کے پٹھان تھے۔لاء میں عہد سلطنت بہلون لو بھی میں نے دین سے اس ملک میں آئے۔شاہ وقت کا ان پر استدر اعتقاد ہو گیا کہ اپنی بیٹی کا نکاح شیخ موصوف سے کر دیا۔اور نیند کا نہ جاگیر میں دئے دیئے چنانچہ ایک گانڈ کی جگہ میں یہ قصبہ شیخ صاحب نے آباد کیا جس کا نام ائیر ہے۔شیخ صاحب کے پوتے بایزید خان نامی شمالیر کے متصل قصبہ کوٹلہ کو تقریبا ساء میں آباد کیا جب کسی نام سے اب یہ ریاست مشہور ہے۔با یزید خان کے پانچ بیٹوں میں سے ایک کا نام فیروز نہاں تھا اور غیرو نہ خان کے بیٹے کا نام شیر محمد خاں، اور شیر محمد خان کے بیٹے کا نام جمال خالی تھا۔جمال خان کے پانچ بیٹے تھے مگر ان میں سے صرف دو بیٹے تھے جن کی نسل باقی رہی یعنی بہادر خاں اور عطاء اللہ خاں۔بہادر خان کی نسل میں سے یہ جوان صالح خلف رشید نواب غلام محمد خان صاحب مرحوم ہے جس کا عنوان میں ہم نے نام لکھا ہے خدا تعالیٰ اس کو ایمانی امور میں بہا دور کیے اور اپنے بعد شیخ بزرگوار صدر جہاں کے رنگ میں لاد سے سردار محمد علی صاحہ نے گورنمنٹ برطانیہ کی توجہ اور مہربانی سے ایک شائستگی بخش تعلیم پائی جس کا اثرمن کے دماغی اور ولی قومی پر نمایاں ے سریں اپنی گرفت اور کرنل میسی نے پنجاب حیض میں ریاست مالیہ کوٹلہ کے خاندان کا شجرہ نسب کار مفصل تذکرہ کیا ہے۔اسی طرح مولانا ضیاء الدین صاحب علوی وکیل امرد ہو یا ان کے مر الانساب میں لکھتے ہیں کہ: شیخ صدرالدین را صد ر جہاں نشر ہو میں تمام ڈرا جن سے جو ملیح قتال نے آبا د کیا تھا، بطور سیات ہندوستان آئے اند جہاں است امیر آباد ہے یہ ایک چھوٹا سا گانوں تھا یہاں ایک پونس کا گھر بنا کر مشغول عبادت ہوئے اتفاق سلطان ہوں لودی ان کی نہ یارت کو آیا اور دعاکی استدعا کی اور دل میں خیال کیا کہ اپنی لڑکی کا نکاح ان سے کر دونگا۔چنانچہ بعد میں اس نے ایسا ہی کیا اور شیخ صدر الدین کو نذر میں ۶۸ دیہات دیتے۔شیخ صدر الدین نے بعد نکاح اس گاؤں کو آباد کیا اور مالی نام رکھا پھر اے سال شاھند میں ان کا انتقال ہو گیا۔یہ بڑے کامل بزرگ تھے اب بھی مالیزیں انکی قرین با کار درة ان نساب صفحه ۳۰ ما شیعه طبع اور ۳۰ را پریل شاه له و مطبع ریمی) عام ہے۔