تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 471 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 471

۴۵۹ ظفر اللہ خال یہی تقسیم کے کیس میں جس کے لئے میں حاضر ہوا ہوں ! خلیفہ شجاع الدین ہمیں کسی کیس کا کوئی علم نہیں۔نہر سے تو میر یہ کہا گیا کہ تم تقسیم کے کیس کے لئے آئے ہو۔اور مسلم لیگ کا کیس کمشن کے روبرو تم پیش کرو گے اور تمہیں ملنے کے لئے ہمیں اس وقت پہنانی آنے کی دعوت دی گئی۔میں نے جناب نواب صاحب کی طرف استفساراً دیکھا۔آپ مسکرا دیئے ! میں نہایت سر آئیگی میں اُٹھ کھڑا ہوا۔اور گذارش کی۔آپ صاحبان سے معذرت چاہتا ہوں۔وقت بہت کم ہے اور مجھے کیس کی تیاری شروع کرتا ہے۔آپ کی تکلیف فرمائی کا ممنون ہوں لیکن اب رخصت چاہتا ہوں جناب نواب صاحب کمرے سے میرے ساتھ ہی باہر آئے اور میں نے اُن کی مقدمت میں گزارش کی۔اس وقت تو مجھے کچھ سوچھ نہیں رہا۔لیکن بہر صورت آئندہ دو دنوں میں تحریری بیان تیارہ کرتا ہے اور پھر اس کی تائید میں بحث کی تیاری کرتا ہے۔کل صبح سے مجھے کچھ نہ کچھ لکھوانا ہوگا۔آپ یہ انتظام فرما دیں کہ کل صبح دو اچھے ہشیار تیز رفتار ٹینوگرافر میرے پاس پہنچ جائیں اور کاغذ پنسل قلم دوات ٹائپ کی مشینیں وغیرہ تمام دفتری سامان ساتھ لیتے ہیں۔میں انہیں باری باری لکھوانا شروع کروں گا۔نواب صاحب نے فرمایا۔تم فکر نہ کرو۔زود نویں اور تمام دفتری سامان صبح سات بجے تمہاری قیامگاہ پر موجود ہو گا۔میں نے شکریہ ادا کیا اور اپنی سیکسی اور بے سر و سامانی کے بوجھ سے لدا ہوا قیامگاہ پر پھالیس ہوا کہ نماز میں درگاہ رب العزت میں فریادی اور لمتبھی ہوا۔انہی میں تن تنہا عاجز اور بیکس اور ذمہ داری اس قدر بھاری ، اس امانت کی کما حقہا ادائیگی کی کیا صورت ہوگی ؟ تو جانتا ہے میں تو بالکل معالی اور صفر ہوں لیکن تجھے ہر قدرت ہے تو اپنے فضل و رحم سے مجھے فہم اور توفیق عطا فرما اور خود میرا ہادی و ناصر ہو۔مجھے اپنی پریکٹس کے زمانے میں کئی بار مبہت تھوڑے عرصے میں پیچیدہ مقدمات کی بحث کی تیاری کرنا پڑی تھی۔لیکن یہ کوئی پریشان کن تجربہ نہیں تھا۔ضروری کا غذات مہیا کر دیئے جاتے تھے۔اہم مقدمات میں کوئی رفیق کار ساتھ شامل ہوتا تھا۔موافق مخالف مواد اور عناصر پیش نظر ہوتے تھے۔صرف یکسوئی اور توجہ درکار ہوا کرتے تھے۔یہاں ذمہ داری تو اس قدر اہم اور گراں اور باقی صفر ! اگر جناب قائد اعظم لاہورمیں تشریف فرما ہوتے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ہدایات طلب کرتا لیکن وہ دلی تشریف فرما تھے۔ٹیلیفون پر بات ہو سکتی تھی۔لیکن ٹیلیفون پر ہدایات حاصل کنا مشکل تھا اور ساتھ ہی مجھے یہ بھی احساس تھا کہ جو تیاری