تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 275 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 275

نمائندوں سے ایک قرارداد منظور کرائی کہ مسلم لیگ تمام مسلمانوں کی نمائندہ نہیں۔بنا بریں کانگرس نے نیشلسٹ مسلمانوں کے عبوری حکومت میں لئے بھانے پر بہت زور دینا شروع کر دیا۔اور اپنا نقطہ نظر یہ پیش کئے رکھا که اگر پانچ مسلمان ممبران کو نسل ہوں تو اس میں سے دو غیر لیگی قوم پرست (کانگریسی یا کانگریس نواز ) مسلمان ضرور ہونے چاہئیں۔کانگرس کے علاوہ خود لارڈ ویول نے کبھی اصرار کیا کہ مسلم لیگ کو پنجاب کے مسلمانوں کے نمائندہ کے طور پر ملک خضر حیات خان کا ایک آدمی ضرور لینا پڑے گا مگر یہ امر چونکہ مسلم لیگ کی جڑ پر کلہاڑا اچلانے بلکہ اس کو اپنے ہاتھوں قبر میں اتارنے کے مترادف تھا۔اس لئے قائد اعظم نے ایگزیکٹو کونسل کے لئے اپنے امیدوار ہے کی فہرست وائسرائے کو دینے سے صاف انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ یا تو مسلم لیگ کو مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت تسلیم کیا جائے یا ملک میں انتخابات کرا کے مسلم لیگ کی نمائندہ حیثیت کا فیصلہ کر لیا جائے جس کا جواب وائسرائے نے کانفرنس کے دوران تو یہ دیا کہ عام انتخابات کرنے کا اختیار لیڈروں کی کانفرنس کو دے دیا گیا ہے۔نئی گورنمنٹ چاہے تو ایسا کر سکے گی۔اس کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالی بھائے گی ہے مگر بعد ازاں لارڈ ویول نے 19 ستم پر ہ کو نئی برطانوی مزدور حکومت سے لندن بھا کر صلاح مشورہ کرنے کے بعد اعلان کر دیا کہ مرکزی اور صوبائی مجالس آئین ساز کے انتخابات بعد عمل میں لائے جائیں گے ان انتخابات کے بعد ہندوستان کا مستقل استور تیار کرنے کے لئے دستور ساز اسمبلی کے ارکان کا انتخاب ہو گا۔قائد اعظم محمد علی جناح کا پینا مسلمانان ہند کے نام اس جوان پر مسلم لیگ کے صدر قائد اعظم محمدعلی ہند کے نام محمد علی جناح نے کوئٹہ میں مسلمانان ہند کو مخاطب کرتے ہوئے کہا :-۔۔ہم " ہمارے پیش نظر اہم مسئلہ آئندہ انتخابات کا ہے۔موجودہ حالات میں انتخابات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔انتخابات ہمارے لئے ایک آزمائش کی صورت رکھتے ہیں۔رائے دہندگان کی اس امر کے بارے میں رائے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ پاکستان چاہتے ہیں یا ہندو راج کے ماتحت رہنا چاہتے ہیں۔۔۔مجھے معلوم ہے کہ سه قائد اعظم اور دستور ساز امیلی مصنفہ محمد اشرت خار علیه مدیر معاون "زمیندار" اشاعت متریال میل روڈ لاہور صفحہ ۱۱۵۲ " التفضل دار و فادا جولائی مین صفحه A۔" رگا x