تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 243
۲۳۷ تھا بھول جائیں لیکن نتیجہ کے طور پر اکثر مسلمان پادری صاحب کی اس پالیسی کے خلاف ہو گئے۔آخر میں مولوی صاحب نے صداقت حضرت مسیح موعود پر ایسی واضح تقریر کی کہ مناظرہ ختم ہوتے ہی مسلمانوں نے بڑے زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا۔سلط میہ میں چاروں طرف احمدیوں کی کامیابی کا چرچا ہو گیا۔اور احمدی مناظروں کی قابلیت کی دھاک بیٹھے گی حتی کہ اگر کوئی شخص بے سروپا بات کرتا تو لوگ ضرب المثل کے طور پر کہ دیتے تھے کہ کیوں پادری عنایت کی ہفتے ہو جاتے کیسے بنتے ہو مباحثہ کو مد پور (ضلع گورداسپور ) مورخه ۲ فتح / دسمبر ریش کو جماعت احمدیہ کھوکھر اور اہلسنت والجماعت گوہد پورہ کے درمیان موضوع گو پر پورا تھانہ دھاریو ال مضلع گورداسپور میں مسئلہ بحیات و وفات مسیح پر شاندار مناظرہ ہوا ی شرائط مناظره پہلے سے طے شدہ تھیں۔جن کے مطابق اہلسنت والجماعت کوئی ایسا مناظر پیش نہ کر سکے ہیں مولوی فاضل ہوتا اور اپنی سند دکھا کر مناظرہ کرنے کو تیار ہوتا متواتر تین گھنٹے کے مطالبہ کے بعد اہلسنت کو دو صد روپیہ ہر جانہ معاف کیا گیا اور ذیلدار صاحب علاقہ کے کہنے اور سفارش کرنے پر مولوی عبداللہ صاحب امرتسری اہلحدیث کو مناظرہ کی اجازت دی گئی جماعت احمدیہ کی طرف سے مولوی ابو العطاء صاحب جالندھری مولوی فاضل پرنسپل جامعہ احمدیہ مناظر تھے جنہوں نے شرائط کے مطابق اپنی سند اور تمغہ پنجاب یونیورسٹی میں اول رہنے کا دکھایا اور مناظرہ شروع ہوا۔پہلی تقریر مولوی عبد اللہ صاحب نے کی جس کے جواب میں احمدی مناظر نے اُن کی تقریر کے دلائل کو توڑ کر هباء منثورا کر دیا۔مزید برآں اور دس مطالبات ایسے کئے کہ جن کا جواب المحدیث مناظر آخر وقت تک نہ دے سکے بلکہ اہلحدیث مناظر اپنی عادت کے مطابق اہلسنت و الجماعت کے بزرگان بلف صالحین حضرت امام ابن قیم ، حضرت ابن عباس ، حضرت علامہ ابن جریر و غیر هم کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کرتے رہے میں سے اہلسنت والجماعت کے افراد کو بہت تکلیف ہوئی اور اس کا اثر پبلک پر بہت برا ہوا۔نیز ان کو قرآنی آیات غلط پڑھنے اور عربی عبادات اور الفاظ کو غلط بولنے کی وجہ سے بہت شرمندگی اُٹھانا پڑی۔مناظرہ یا انکے شروع ہو کر باہم بجے ختم ہوا۔اور اللہ تعالیٰ نے احمدیوں کو اخلاقی اورعلمی ہر لحاظ سے فتح عطافرمائی فاطمہ نہ علی ذالک مناظر میں قادیان ، اٹھوال ،شاہ پور ، گنجران ، ناران، دھر کوٹ بگر، پنجواں، دین فتح کھوکھر سکوہ، پیرشاه ر ظلم نہیں ہر سیاں فیض اللہ چک تلونڈی بنگال ہمراہ دیا گڑھا اور دیگر قرب نواح کی جماعتوں کے افراد شامل ہوئے ہیے و الفضل تو نبود توتير مش صفه + ٣ الفضل هر فتح رسمی اش صفه : یش ۶ " ک