تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 237 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 237

۲۳۱ پڑھیں مولانا شمس صاحب نے انہی آیات سے ثابت کر دیا کہ ان میں قتل کا حکم ان کافروں کے متعلق ہے جو میدان جنگ میں لڑنے کے لئے آئے اور پہلے حملہ آور ہوئے مباحثہ کے بعد سوالات کے موقعہ پر جب ایک شخص نے جنگوں کے متعلق اعتراض کیا تو مولانا شمس صاحب نے کہا۔یسوع مسیح نے آسمانی بادشاہت کی مثال بیان کرتے ہوئے خود ظالموں کے قتل کو جائز قرار دیا ہے۔انہوں نے آسمانی بادشاہت کی ایک بادشاہ سے مثال دی ہے جس نے اپنے لڑکے کی شادی پر لوگوں کو کھانے کے لئے دعوت دی مگر انہوں نے دعوت قبول نہ کی اس نے پھر اپنے نوکر بھیجے مگر پھر انہوں نے انکار کیا اور بعض تو اپنے کاموں پر پہلے گئے اور تو باقی رہ گئے ، انہوں نے ان پیغام رسانوں کو قتل کر دیا۔تب بادشاہ اپنی فوج بھیجے گا اور ان قاتلوں کو تہ تیغ کر دے گا اس مثال میں بادشاہ سے مراد خدا ہے۔پس آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا ظالم حملہ آوروں سے جنگ کرنا اس مثال کی رو سے بالکل بھائز تھائیے ۶- کھٹا میباسته ۲ احسان جون کو ہوا قرار یہ پایا تھا کہ مست گرین دو گھنٹے میں قرآن مجید پر جتنے اعتراض کرنا چاہیں پیش کر دیں اور مولانا شمس صاحب ان کا جواب دیں۔مگر اس روز کچھ ایسا الہی تصرف ہوا کہ وہ پہلے مباحثات میں تو اعتراض کرتے رہے وہ بھی پیش نہ کر سکے اور جو نوٹ انہوں نے لے رکھے تھے وہ بھی تلوار تھے۔ساتواں میائشہ وار احسان کو ہوا۔اس روز مولانا شمس صاحب نے مسٹر گرین پر انجیل کی نسبت اعتر اننا کئے جن کے جواب دینے سے وہ قاصر رہے۔بعض کے متعلق کہا۔میں نے پہلے کبھی نہیں سُنے۔اس لئے میں جواب نہیں دے سکتا۔اکثر کے متعلق کہا کہ میں تیاری کر کے جواب دوں گا جس سے حاضرین پر ان کی بے بسی اور لاچاری بالکل بے نقاب ہو گئی۔اگلے جمعہ پھر مباحثہ تھا جس میں ان کی باری قرآن مجید پر اعتراضات کرنے کی تھی مگر اس روز مسٹر گرین نے بالکل راہ فرار اختیار کر لی حسن کی دلچسپ تفصیل مولانا شمس صاحب کے قلم سے لکھی جاتی ہے :- مباحثہ شروع ہوا۔اور میں نے اس کے پہلے سوال کا جو جہنوں کے متعلق تھا یہ جواب دیا کہ آیت میں مینوں سے مراد الف لیلہ والے جن نہیں ہیں۔جیسا کہ مسٹر گرین نے کہا ہے بلکہ اس سے مراد بیٹھے ه ی تمثیل مستی باب ۲۱ ، مرقس باب ۱۲ اور لوقا باب ۲۰ میں درج ہے۔له الفضل ۲۰ وفاد/ جولائی س ش صفحه ۴ :