تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 69 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 69

ЧА گئے ہیں اور عام صدقہ کا بھی انتظام کیا ہے۔مگر چونکہ آخر ہر انسان نے مرنا ہے میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تقویٰ ، خدا تعالے پر توکل اور دین کی اشاعت کے لئے اپنے اندر جوش پیدا کریں۔اور اتحاد جماعت کو کبھی ترک نہ کریں۔اگر وہ ان باتوں پر قائم رہیں گے۔اگر قرآن کریم کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں گے۔اگر وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آوانہ بے پر ہمیشہ کان رکھیں گے اور اُن کے پیغام کا جواب اپنے دلوں سے دیتے ہوئے دنیا تک اسے پہنچانے رہیں گے، تو اللہ تعالے ہمیشہ ان کا حافظ و ناصر رہے گا اور کبھی دشمن ان کو ہلاک نہ کر سکے گا بلکہ ان کا قدم ہمیشہ آگے ہی آگے پڑے گا۔انشاء اللہ تعالے میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ میری نیت ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بغیر وصیت کے مقبرہ بہشتی میں دفن ہونے کا حق دیا ہے اس لئے اس کے شکریہ میں نہ کہ مقبرہ بہشتی کی وصیت کے طور پر اپنی جائداد کا ، وہ تھوڑا ہو یا بہت ، ایک حصہ ان اعراض کے لئے جو مقبرہ بہشتی کے قیام کی ہیں وقف کر دوں۔سو اس کے مطابق میں اعلان کرتا ہوں کہ میری جائیداد جو بھی قرضہ کی ادائیگی کے بعد بچے اس کی آمد کا دسواں حصہ میرے ورثا اصل مین احمدیہ کے حوالے کر دیا کریں تاکہ وہ اشاعت اسلام کے کام پر خرچ کیا جائے، مگر یہ شکریہ بھی کافی نہیں۔ایک کام جماعت کا اور بھی ہے جو توجہ کا مستحق ہے اور جس کی طرف سے جماعت کے احباب اکثر غافل رہتے ہیں اور وہ اس کے غرباء ہیں۔سو میں یہ بھی وصیت کرتا ہوں کہ میری جائیداد کا ایک اور دسواں حصہ (جو قرض کے ادا کرنے کے بعد نیچے) غرباء، مساکین ، بیتا می، اور بیواؤں کے لئے وقف ہوگا۔پس میری بجائیداد کی جو بھی آمد ہو ، کم یا زیادہ ، اس میں سے دسواں حصہ سلسلہ کے مساکین ، قرباء ، بتائی اور بیواؤں کی امداد کے لئے خرچ کیا جائے۔اس رقم کو خرچ کرنے کے لئے میں ایک کمیٹی تجویز کرتا ہوں جس میں دو نمائندے میرے ورثاء کی طرف سے ہوں اور ایک خلیفہ وقت کی طرف سے۔وہ باہمی مشورہ سے مذکورہ بالا مستحقین پر اس رقم کو خرچ کریں۔اگر کبھی اختلاف ہو تو خلیفہ وقت کا فیصلہ اس بارہ میں ناطق ہوگا۔میں اپنی اولاد سے امید کرتا ہوں کہ وہ اپنی زندگیوں کو دین کے لئے خرچ کرینگے اور دنیاوی ترقیات کو دین کی ضرورتوں پر قربان کریں گے۔