تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 603 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 603

۵۸۲ ہوشیار پور سے قادیان کا سفر کریں۔آمین یارب العالمین۔سید محمد اسحق تصادم قافلہ ہوشیار پور" اس قافلہ میںجو تقریباً اڑھائی سو افراد پرمشتمل تھا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ہے تر قادیان سے جالندھر مولوی شیر علی سلب حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور خانصاحب حضرت مولوی فرزند علی صاحب بھی شامل تھے۔جب گاڑی روانہ ہوئی تو سب نے مل کر دعا کی۔امرتسر کے اسٹیشن پر اور بھی بہت سے اصحاب شریک قافلہ ہو گئے مغرب اور عشاء کی نمازوں کے لئے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر اذان کہی گئی اور دونوں نمازیں جمع کر کے حضرت میر صاحب نے پڑھائیں گیارہ بجے کے قریب ڈیرہ دون پسنجر کے ساتھ ریز رو بوگی لگائی گئی۔اور دوسرے اصحاب نے گاڑی میں سوار ہونے کی کوشش کی لیکن با وجود انتہائی کوشش کے اُن میں سے بہت سے رہ گئے اور وہ دوسری گاڑی سے جالندھر پہنچے بجالندھر شہر کے پٹیشن پر گاڑی ڈیڑھ بجے کے قریب پہنچی اور بقیہ رات اسٹیشن پر گاڑیوں میں اور پلیٹ فارم پر گذاری گئی۔عمر رسیدہ اور بزرگ اصحاب کا سخت سردی میں زمین پر یا گاڑیوں کے تنگ تختوں پر رات گذارنا اگرچہ کٹھن بات تھی لیکن ہر خورد و کلاں اور ہر بوڑھا اور جوان کچھ ایسے رومانی سرور اور لذت میں مست تھا کہ کسی کو تکلیف کا خیال تک نہ رہا بسحری کے وقت اکثر لوگ خود بخود تہجد کی نماز کے لئے اُٹھے اور جونہ اٹھ سکے وہ جگائے گئے صبح کی اذان پلیٹ فارم پر دی گئی اور نماز فجر حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے پڑھائی۔گاڑی سات بجے کے قریب ہوشیار پور کے لئے روانہ ہوئی۔اس وقت تک جالندھر سے ہوشیار پورے وہ اصحاب بھی پہنچ چکے تھے جو مرتسر کے ہیش پر قافلہ کے ساتھ آنے سے اسٹیشن رہ گئے تھے بلکہ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے بات شامل ہو گئے جو لاہور یا دہلی کی طرف سے آئے تھے۔نو بجے کے قریب گاڑی ہوشیار پور کے اسٹیشن پر پہنچی جہاں حضرت مولوی عبد المغنی خاں صاحب ناظر دعوة وتبلیغ کی قیادت میں بعض اصحاب پہلے سے موجود تھے۔اسٹیشن پر سے پانچ پانچ کی قطار میں قافلہ روانہ ہوا۔اور بجائے قیامت تک جو شہر کے درمیان گرلز سکول کی عمارت تھی ، اسی ترتیب سے گیا۔ر صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحب کی طرف روان بنا کر حضرت میر صاحب نے موقعہ کے لفظ سے مختصر تقریر فرمائی اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رض سے جل گاہ کے انتظامات کی نگرانی انتظامات جلسہ اور مقام دعا کا ملاحظہ فرمانے کے لئے تشریف لے گئے پونکہ ایک روز قبل بارش ہو چکی تھی اس لئے کنک منڈی کے بیع احاطہ میں (جسے جلسہ کیلئے