تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 588 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 588

046 والے تین فضل نام کے آدمی تھے اور اسی لئے اس کو حلف الفضول کہتے ہیں۔یہ معاہدہ عبداللہ بن بعد عمان کے مکان میں ہوا۔اس کے اولین اور پر جوش داعی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے چچا اور خاندان کے سر براہ زیرین مطلب تھے۔اور طے پایا کہ ہم مظلوموں کو ان کے حقوق دلوانے میں مدد کیا کریں گئے اور اس بات میں ایک دوسرے کی تائید کریں گے۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمایت مظلوم کی اس تحریک میں بنفس نفیس شرکت فرمائی۔حضور عہد نبوت یں بھی فرمایا کرتے تھے کہ میں عبدالدین جدعان کے مکانپر ایک ایسے معاہدہ میں شریک ہوا تھا کہ اگر آج اسلام م کے زمانہ میں بھی مجھے کوئی اس کی طرف بلائے تو میں اس پر لبیک کہوں کہ سیدنا المصلح الموعود کے قلب مبارک پر القاء کیا گیا کہ اگراسی قسم کا ایک معاہدہ آپ کی اولاد بھی کرے اور پھر اس کو پورا کرنے کی کوشش کرے تو خدا تعالئے اُن کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ ان پر اپنا فضل نازل فرمائے گا۔اس الہام ربانی کی بنا پر حضور نے ہر ماہ وفا جولائی 3 کے خطبہ جمعہ میں تحریک فرمائی کہ جماعت احمدیہ کے بعض افراد معاملات کی صفائی اور مظلوم کی امداد اور دیانت وامانت اور عدل و انصاف کے قیام کے لئے باقاعدہ عہد کریں۔حضرت سیدنا المصلح الموعود نے حلف الفضول" کی مبارک تحریک میں شمولیت کے لئے یہ شرائط تجویز فرمائیں کہ جو لوگ اس میں شامل ہوتا چاہیں اُن کے لئے لازمی ہے کہ سات دن تک متواترہ اور بلاناغہ استخارہ کریں۔بعشاء کی نماز میں یا نماز کے بعد دو نفل الگ پڑھ کر دعا کریں کہ اسے بخدا اگر میں اس کو بیاہ سکونتگا تو مجھے اس میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرما۔ایک اور شرط یہ ہوگی کہ ایسا شخص تخواہ امام الصلوۃ کے ساتھ اسے ذاتی طور پر کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو مرکزی حکم کے بغیر اس کے پیچھے نماز پڑھنا ترک نہیں کرے گا اور اپنے کسی بھائی سے خواہ اُسے شدید تکلیف بھی کیوں نہ پہنچی ہو اس سے بات چیت کرتا ترک نہ کرے گا اور اگر وہ دعوت کرے تو اُسے رد نہ کرے گا۔ایک اور شرط یہ ہے کہ سلسلہ کی طرف سے الفضل بن فضاله الفضل بن وداعه الفضل بن الحرث وستر علبه صفحه ها تالیف اور ملا علی بن برأن الدين البنات فعلی ہ شاید یہ اسی خیال کا اثرتھا کہ جب ایک دفعہ حضرت امیرمعاویہ کے نظر میں ان کے بھتیجے ولید بن عقبہ بن ابی سفیان (امیر دینی نے حضرت سینڈ حسین بن علی ابن ابی طالب کا کوئی حق دبا لیا تو حضرت امام حسین نے نے فرمایا۔خدا کی قسم ! اگر ولی نے میرا حق نہ دیا تو میں تلوار نکال کر مجھے نبوی میں کھڑا ہو جاؤں گا اور صلف الفضول کی طرف لوگوں کو بلاؤں گا حضرت عبد اللہ بن زبیر نے سنا تو فرمانے لگے کہ اگر حضرت حسین نے اس قسم کی طرف بلایا تو میں اس پر ضرور لبیک کہوں گا اور ہم یا تو اُن کا حق دلوائیں گئے اور یا اس کوشش میں سب مارے بھائیں گے بعض اور لوگوں نے بھی اسی قسم کے الفاظ کہے جس پر ولید دب گیا اور اس نے حضرت حسین علیہ سلام کا حق ادا کر دیا۔لا ابن ہشام بحوالہ سیرت خاتم النبیین حصہ اول صفحه ۱۳۵ - ۱۳۶ طبع دوم دسمبر در مولفه تم الانبیاء حضرت صاجزادہ مرزا بشیر احمد صاحب) له الفضل ۲۲ وقار / جولائی همایش صفحه ۲ کالم ۳ * " ٢٣ جولالى" ۳۳۳ ۳*