تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 527
۵۰۸ لیا نکشان کے متلای شخصی منتجا کی وہیں یہ۔۔اور وہ یہ کہ احمدیوں کی طرف سے ایسی رویا بھی بڑی کثرت سے موصول ہوئیں جن میں انہیں قبل از وقت بتایا گیا تھا کہ اللہ تعالے کی طرف سے حضور پُر نور کو ایک نئے اور عالی منصب پر سرفراز کیا جارہا ہے۔سب سے عجیب رویا ، منصف خان سے جب اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر کا تھا جس میں حضرت مصلح موعود کے خطبہ اور اس میں بیان فرمودہ خواب کا سارا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا گیا تھا۔اور جس کا ذکر خود ہم حضرت مصلح موعود نے ہم تبلیغ فروری پیش کو خطبہ جمعہ میں اپنی زبان مبارک سے یوں فرمایا کہ وہ لکھتے ہیں کہ ۳۰ ر اور ۳۱ کی درمیانی شب کوئیں نے یہ رویا دیکھا ہے خطبہ میں نے ۲۸ جنوری کو پڑھا تھا۔اور یقینا یہ خطبہ خواب دیکھنے کے وقت تک اُن کو نہیں ملا۔" الفضل " میں اس بارہ میں میں پہلی خیبر سر جنوری کے پرچہ میں شائع ہوئی ہے۔اور الفضل " کا یہ پرچہ ان کو ۲۱ جنوری کو مل سکتا تھا لیکن انہوں نے ۳۰ اور اس جنوری کی درمیانی رات کو یہ خواب دیکھا اور پھر اُن کے خط میں بھی اس امر کا کوئی ذکر نہیں کہ اخبار میں انہوں نے یہ خبر پڑھ لی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رویا، ان کو ایسے حالات میں ہوئی ہے جبکہ انہیں اس بات کا کوئی علم نہ تھا کہ میں نے اپنے خطبہ میں اس پیش گوئی کے مصداق ہونے کا اعلان کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ روبار میں میں نے دیکھا کہ احمدیوں کا ایک بہت بڑا ہجوم ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی عظیم الشان نشان ظاہر ہوا ہے جس پر وہ خدا تعالے کی حملہ اور اس کی تسبیح و تحمید کر رہے ہیں اور بڑے جوش سے ان کے منہ سے تسبیح کی آوازیں نکل رہی ہیں۔وہ لکھتے ہیں۔رویا ر میں میں نے دیکھا کہ اور لوگوں پر بھی اس کا اثر ہے۔لیکن مفتی محمد صادق صاحب پر تو وبعد کی حالت طاری ہے۔اب دیکھو پچھلے خطبہ میں تمام احمدیوں پر اللہ تعالیٰ کے اس نشان کا اثر تھا۔مگر مفتی صاحب پر تو اس کا ایسا اثر ہوا کہ وہ مخطبہ جمعہ میں ہی بول پڑے۔وہ لکھتے ہیں۔میں حیران ہوا کہ یہ کیا بات ہے۔اس کے بعد مجھے ایک کمرہ نظر آیا جس میں شیشے کی تین چوکھٹیں لگی ہوئی ہیں اور ان پر نہایت اعلیٰ پالش کیا ہوا ہے تاکہ اُن پر تصویر آسکے۔اس کے بعد یکن کیا دیکھتا ہوں کہ اُن پر دو تصویریں نمودار ہوگئی ہیں۔ایک تصویر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہے اور ایک آپ کی ہے اور یہ دونوں تصویریں اکٹھی کمرہ کے اندر چکر کھا رہی ہیں اور اُن کو دیکھ کر لوگ خوش ہو رہے اور اللہ تعالے کی تسبیح و تحمید کر رہے ہیں۔انہوں نے تیری تصویر کا ذکر نہیں کیا۔یعنی