تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 511
۴۹۲ جنوری کے پہلے ہفتہ میں غالباً بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کو رمیں نے غالباً کا لفظ اس لئے استعمال کیا ہے کہ میں اندازہ سے کہہ رہا ہوں کہ وہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات تھی ) میں نے ایک عجیب رویا دیکھا۔میں نے جیسا کہ بارہا بیان کیا ہے۔غیر مامورین کا اپنے کسی رویار کو بیان کرنا ضروری نہیں ہوتا۔اور میں خود تو سوائے پچھلے ایام کے جبکہ اس جنگ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بعض اہم خبریں مجھے دیں۔بہت کم ہی رویا بتایا کرتا ہوں بلکہ اللہ بہتر جانتا ہے۔یہ طریق درست ہے یا نہیں میں اپنے روپا و کشور اور الہامات لکھتا بھی نہیں اور اس طرح وہ خود بھی کچھ عرصہ کے بعد میری نظروں سے اور جھیل ہو جاتے ہیں بچنا نچہ ابھی لاہور میں مجھے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ایک امر کے سلسلہ میں میرا ایک نہیں پچیس سال کا پرانا رو با یاد کرایا۔پہلے تو وہ میرے ذہن میں ہی نہ آیا۔مگر بعد میں جب انہوں نے اس کی بعض تفصیلات بیان کیں تو اس وقت مجھے یاد آ گیا۔تو میری یہ عادت نہیں ہے کہ میں رویار و کشون بیان کروں لیکن چونکہ اس رڈیار کا تعلق بعض اہم امور سے ہے، نہ صرف ایسے امور سے جو کہ میری ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔بلکہ ایسے امور سے بھی جو بعض سابق انبیاء کی ذات اور ان کی پیشگوئیوں سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ صرف وہ بعض سابق انبیاء کی ذات اور ان کی پیشگوئیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔بلکہ آئندہ رونما ہونے والے دنیا کے اہم حالات سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔اس لئے لیکن مجبور ہوں کہ اس رویار کا اعلان کروں اور میں نے اس کے اعلان سے پہلے خدا تعالیٰ سے اس بارہ میں دعا بھی کی ہے اور استخارہ بھی کیا ہے تاکہ اس معاملہ میں مجھ سے کوئی بات خدا تعالیٰ کے منشاء اور اس کی رضاء کے خلاف نہ ہو۔وہ رویا یہ تھا کہ میں نے دیکھا۔میں ایک مقام پر ہوں جہاں جنگ ہو رہی ہے۔وہاں کچھ کار میں ہیں۔نہ معلوم وہ گڑھیاں ہیں یا ٹرنچز ہیں۔بہر حال وہ جنگ کے ساتھ تعلق رکھنے والی کچھ عمارتیں ہیں۔وہاں کچھ لوگ ہیں جن کے متعلق میں نہیں جانتا کہ آیا وہ ہماری جماعت کے لوگ ہیں یا یونہی مجھے اُن سے تعلق ہے میں ان کے پاس ہوں۔اتنے میں مجھے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے جرمن فوج نے جو اس فوج سے جس کے پاس میں ہوں بر سر پیکار ہے، یہ معلوم کو لیا ہے کہ میں وہاں ہوں اور اس نے اس مقام پر حملہ کر دیا ہے اور وہ حملہ اتنا شدید ہے کہ اس جگہ کی فوج نے پسپا ہونا شروع کر دیا۔یہ کہ وہ انگریزی فوج تھی یا امریکن فوج یا کوئی اور فوج تھی۔اس کا مجھے اس وقت کوئی خیال نہیں آیا۔بہر حال وہی