تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 492 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 492

۴۷۵ اس سال اندرونِ ملک میں مباحثہ ہیزم کے سوا کوئی قابل ذکر مناظرہ نہیں ہوا۔ہمیزم بوشید مباحثہ ہیزم کے ضلع میں ایک قصبہ ہے جہاں ۲ احسان جون پر ہش کوغیر احمدیوں اور احمدیوں کے احسان پر ما بین مناظرہ کی شرائط طے ہو چکی تھیں۔بموجب شرائط ہر فریق کے لئے لازم تھا کہ وہ سند یافتہ مولوی فاضل مناظر نمایش کرے بصورت دیگر مبلغ پچاس روپیہ جرمانہ فریق ثانی کو ادا کرنا ضروری تھا۔غیر احمدی اصحاب چونکہ یہ شرط پوری نہ کر سکے اس لئے طویل بحث و تمحیص کے بعد انہوں نے پبلک میں اپنی معذوری پر ندامت کا اظہار کیا۔جس پر "وفات وحیات مسیح " اور مسئلہ ختم نبوت “ پر مناظرہ کا آغاز ہوا۔H پہلا مناظرہ بجے شروع ہوا۔غیر احمدیوں کی طرف سے مولوی عبد اللہ صاحب معمار امرتسری اور جماعت احدید کی طرف سے مولوی سید احمد علی صاحب مولویفا ضل مناظر تھے۔جماعت احمدیہ کے مناظر نے قرآن مجید احادیث اور بزرگان سلف کے اقوال کی رو سے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی وفات پر بحث کی۔دوسرا مناظرہ سوا چار بجے بعد دو پہر شروع ہوا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے مولانا قاضی محمد نذیر صاحب امپوری مولوی فاضل اور غیر احمدیوں کی طرف سے مولوی عبداللہ صاحب منار تھے۔جناب قاضی صاحب نے از روئے قرآن مجید اس بات کو پایہ ثبوت تک پہنچا دیا کہ حضرت نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی شان اس قدر اعلیٰ اور ارفع ہے کہ آپ کی اتباع کامل سے انسان نبوت کے انعام سے بھی فیضیاب ہو سکتا ہے۔غیر احمدی مناظر اس کا کوئی معقول جواب نہ دے سکے اور اپنی عادت کے مطابق گالیوں اور بد زبانی کے اوچھے ہتھیاروں پر اُتر آئے۔اس دوسرے مناظرہ کا ابھی نصف وقت بھی نہ گزرا تھا کہ پولیس نے مداخلت بیجا کر کے مناظرہ ختم کروا دیا بغیر احمدی علماء پولیس کی بات سنتے ہی سٹیج چھوڑ کر چلے گئے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے مناظرہ نہایت کامیاب رہا۔پبلک نہ نہایت اچھا اثر لیا۔احمدی احباب مناظرہ سننے کے لئے دُور دُور سے آئے ہوئے تھے۔لاہور سے جناب چودھری اسد اللہ خان صاحب بار ایٹ لاء اور میاں غلام محمد صاحب اختر مع دیگر احباب پہنچ گئے تھے۔اور قادیان سے بہت سے احباب نے سائیکلوں پر اور پیدل چل کر مناظرہ میں شمولیت کی بیلے الفصل از احسان خون به بیش صفحه ۴ * ۶۱۹۴۳