تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 477
-۴- شیخ یوسف علی صاحب بی۔اے خان بہادر چودھری نعمت اللہ خانصاحب آنریری مجسٹریٹ ساکن در ضلع جالندهران - بابو محمد عالم خانصاحب پریزیڈنٹ جماعت احمدیہ ممباسہ (مشرقی افریقہ) خانصاحب نعمت اللہ خانصاحب برج انجنیر ریلوے)، بیاست - شه با بو اکبر علی صاحب - عبد القیوم خانصاحب بٹالوی n ہیں۔له تاریخ وفات ۲۰ احسان جون ۱۳ پیش بعمر ۴۵ سال۔مرحوم سلسلہ کے از حد مخلص اور انتھک کارکنوں میں سے تھے س او سے لیکر تک علاقہ ملکانہ میں مصروف جہادر ہے۔ازاں بعد حضرت امیر المومنین خلیفہ ربیع الثانی بنہ نے آپ کو لاہور کے احمدیہ ہوسٹل کا سپر نٹنڈنٹ مقر فرمایا۔مارچ یا اپریل شاہ تک آپ اسی کام پر مامور رہے۔اسی اثناء میں حضرت امیر المومنین من کی نگاہ انتخاب پرائیویٹ سکرٹی کے عہدہ کے لئے آپ پر پڑی (الفضل ظہور ۱۳۶ پیش مت) اور آپ کئی سال تک حضور کے ارشاد سے پرائیویٹ سیکنڈری کے اہم فرائض بجا لاتے رہے، نیز ایک عرصہ تک پہلے نائب ناظر اور انہ پھر نائب ناظر تعلیم و تربیت کی حیثیت سے کام کیا۔مرض کہ پوری عمر خدمت سلسلہ میں گذاری (الفضل ۲۹ احسان خون ۳۲ بیش صفحه ۲ کالم ۱ )۔ید تا مسیح الموعود کے قدیم صحابی حضرت پر دھری رستم علی صاحبیت کورٹ پکڑ کے قریبی رشتہ دار جواپنے گاؤں میں اکیلے احمد تھے اور نہایت سادہ مزاج، خوش خلق اور غریب پرور بزرگ تھے (تاریخ و انام وفا جولائی سریش والافضل وفام رامش من کتب سه تاریخ وفات ۳۱ وقار جولائی میش ( الفصل یکم ظہور اگست ۳۲۲ مه پیش صفر یہ ک) جماعت احمدیہ تمباسہ کے ایک ستون اور احمدیت کا بہت ہی عمدہ نمونہ تھے۔خدمت دین اور تبلیغ کا بیحد خوش ) خوش رکھتے تھے گفتگو نہایت ملائل اور پر اثر کرتے تھے نہیں الصوت تھے۔ایسے بند ہے سے کلام کرتے کہ معترض ساکت ہو کے رہ جاتا۔تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔نہایت متشرع اور تہجد گزار تھے۔درین کے لئے بہت غیرتمند اور قرآن مجید کے عاشق صادق تھے حضرت خلیفہ السیح الثانی کا ذکر آتے ہی آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے تھے طبیعت میں ہمدردی اور خدمت خلق کا جذبہ کمال تک پہنچا ہوا تھا ان کے طور ہے که تاریخ وفات ب ظهور را گسترش "الفضل " در ظهور اگست یه مش صفر یه که شه تاریخ وفات ۳۰ ظهور اگست میشد ميش الفضل اسم عبور من صنفها نيز " الفضل ، یکم اضادار پیش حضرت مفتی محمد صادق سنا نے مرحوم کی وفات پر حسب ذیل نوٹ لکھا: "بابو صاحب میرے پرانے دوستوں میں سے تھے جب میں اخبار بدر کی ایڈیٹری پرمتعین تھا تو بابو صاحب جب قادیان آیا کرتے بمع اہل عیال میرے ہی غربی نشانے پر قیام کرتے میرے سفر ولایت اور امریکہ کے زمانہ میں بھی ان کے ساتھ سلسلہ خط و کتابت جاری رہا، اور امریکہ سے واپسی پر جب میں عہدہ نظارت پر مامور ہوا اور سلہ کی ضروریات کیلئے دی جانے کی ضرورت ہوئی تو اس وقت بالو اورانی میں پیلوے کے انسپکٹر تھے اور میں ان کے ہاں ہی تھا قیام کرتا۔بابو صاحب نہایت مہمان نواز دوستوں کے بچے خیر خواہ اور سلسلہ حقہ کا کے دلی خادم تھے سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہو کر انہوں قادیان میں مستقل رہائش اختیار کی۔اپنا شاندار مکان بنوایا۔گلاس فیکٹری اور موزر کی انتظام کیا اور سلسلہ کے محکم انجنیری کے کئی کام سر انجام دیئے غریبوں کی ہمیشہ ادا کرتے کبھی کسی سائل کو محروم نہ بھیجتے۔نظام سلسلہ کی طرح ہے قاضی مقرر ہو کہ انہوں نے بہت سے مقدمات کا فیصلہ کیا اور بہتوں کی آپس میں مصالحت کرادی بغرض بابو صاح میں بہت سی خوبیوں کا مجموعہ تھے" والفضل کے تبوک ستمبر سال پیش صفر م ) ؟ ه تاریخ وفات ۳ار اتار / اکتوبر سلسلہ میں تبلیغ کا خاص، ولولہ رکھتے تھے۔ایک بار سفر میں سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری سے گفتگو کرنے کا موقعہ مل اور اپنے مخصوص طرز کلام سے اُن کو لاجواب کر دیا۔شاہ صاحب کہنے لگے کہ نگران جیسے سیب حربوں کے اخلاق اور دماغ ہوں تو حمایت کی اشاعت کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی افضل وفتح ایمر را در این سفر به "