تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 381
٣٧٠ اور ایمان اس کو نظر انظار نہیں کیا جاسکتاہ اس کے بعد آپ نے ہندوستان میں موجود بڑے بڑے راہ پر خصوصی اور دنیا کے دوسرے مذاہب پر عموماً ایک محققانہ نظر ڈالی ہے تا اُن سے وہ علاج دریافت کیا ہے جو وہ اس مشکل کے دور کرنے کیلئے جسے دنیا بری نظر سے دیکھتی ہے وہ پیش کرتے ہیں۔اور تا اُن سے نیا نظام دریافت کیا جائے جو وہ موجودہ نظام کی بجائے پیش کر سکتے ہیں کیونکہ ان کا بھی فرض ہے کہ وہ اس مشکل کو حل کریں اور اس مصیبت کو دور کریں۔اس کے بعد آپ نے بہت سے دلائل اس بات کے لئے پیش کئے ہیں کہ ان سب مذاہب میں سے صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو اپنے اندر ان مشکلات کو حل کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور تمام اقوام اور تمام لوگ پہلے بھی اس پر عمل کر سکتے تھے اور اب اس موجودہ زمانہیں بھی عمل کر سکتے ہیں۔(اس کے بعد الاستاذ عباس محمود العقاد نے نظام تون اس حصے کا خلاصہ اپنی زبان میں دیا ہے) موکت یا بالفاظ دیگر فاضل لیکچرار صاحب نے صرف ان مذہبی عقائد کا ہی جن کا ہم نے مذکورہ بالا سطور میں نہایت مختصر طور پر اشارہ ذکر کیا ہے مقابلہ اور موازنہ کرنے میں ہی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی بلکہ آپ نے خاص طور پر اُن پر گہری نظر ڈالی ہے اور خاص اہتمام سے کام لیا ہے۔کیونکہ صرف مقیارہ ہی جیسا کہ آپ نے فرمایا ایک ایسی چیز ہے جس سے صلاح کی امید رکھی جاسکتی ہے۔اور ساتھ ہی آپ نے ان عقاید کا مقابلہ اور موازنہ کرنے کے علاء و ان تمام سیاسی اور سوشل نظاموں کا بھی مقابلہ اور موازنہ کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ سبد کے سب عملی طور پر بھی اور روحانی طور پر بھی اپنے مقاصد میں ناکام رہے ہیں (اس کے بعد نظام نو کے اس حصہ کا خان صہ دیا ہے جو سیاسی اور سوشل نظاموں پر مشتمل ہے) یکچر کا انگریزی ترجمہ جو یذکورہ بالا خلاصہ کی تفصیلات پر مشتمل ہے متوسط تقطیع کے ایک سوا اور کچھ اوپر صفحات پرمشتمل ہے۔اور ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ اگر یہ آوازہ یورپ اور امریکہ کے انگریزی خوان طبقہ میں پھیپ لائی جائے بلکہ خود اہلِ ہندوستان اور اہل مشرق کے درمیان بھی پھیپ پائی جائے تو یقینا اپنا اثر دکھلائے گی۔رجب ن الفضل در فتح هش (۱۶ دسمبر ۱۹۲۱) صفحه ۴ * + جمه