تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 361 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 361

۳۵۰ انبیاء کی جماعتیں جب حقیقی تبلیغ کے لئے اُٹھتی ہیں تو دیوانگی کا رنگ رکھتی ہیں۔لوگ کہتے ہیں یہ لوگ پاگل ہیں۔وہ بھی کہتے ہیں کہ ہاں ہم پاگل ہیں۔مگر اس جنوں سے پیاری چیز نہیں اور کچھ نہیں۔مگر یس دن کے آنے سے پہلے تبلیغ میں تیزی کی ضرورت ہے سمندر کو ایک دن میں کوئی شخص پار نہیں کر سکتا جو اُسے پار کرنا چاہے پہلے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو اُس کے قریب کرے۔ایک چھلانگ میں ہی کوئی اُس تک نہیں پہنچ سکتا پس پہلے اس کے لئے تیاری کی ضرورت ہے۔اس سلسلہ میں میں نے یہ تجویز کی ہے کہ سردست ضرورت ہے کہ ایک حد تک اس طبقہ میں جو علماء اور رو ساعر اور اصرار یا پیروں اور گدی نشینوں کا طبقہ ہے اُس تک باقاعدہ سلسلہ کا لٹریچر بھیجا جائے الفضل" کا خطبہ نمبر یا انگریزی دان طبقہ تک سن رائز جس میں میرے خلیہ کا انگریزی ترجمہ چھپتا ہے باقاعد ہ پہنچایا جائے۔تمام ایسے لوگوں تک ان کو پہنچایا جائے جو عالم نہیں یا امراد لو صار یا مشایخ میں سے ہیں اور جن کا دوسروں چھ اثر در سورخ ہے۔اور اس کثرت سے اُن کو بھیجیں کہ وہ تنگ آکر یا تو اس طرفت توجہ کریں اور یا مخالفت کا بیڑہ اٹھائیں اور اس طرح تبلیغ کے اس طریق کی طرف آئیں جسے آخر ہم نے اختیار کرنا ہے۔لٹریچر اور الفضل" کا خطبہ نمبر یائسن رائز بھیجنے کے علاوہ ایسے لوگوں کو خطوط کے ذریعہ بھی تبلیغ کی جائے اور بار بار ایسے ذرائع اختیارہ کر کے اُن کو مجبور کر دیں کہ یا وہ صداقت کی طرف توجہ کریں اور تحقیق کرنے لگیں اور یا پھر مخالفت شروع کر دیں۔مثلاً ایک چٹھی بھیج دی۔پھر کچھ دنوں کے بعد اور بھیجی۔پھر کچھ انتظار کے بعد اور بھیجدی جس طرح کوئی شخص کسی حاکم کے پاس فریاد کرنے کے لئے اُسے چٹھی لکھتا ہے اگر جواب نہیں آتا تو اور رکھتا ہے۔پھر وہ توجہ نہیں کرتا تو ایک اور لکھتا ہے حتی کہ وہ افسر توجہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔پس تکرار کے ساتھ علماء اور امراء د روساء مشاریخ نیز را جوں جہارا ہجوں نوابوں اور بیرونی ممالک کے بادشاہوں کو بھی پٹھیاں لکھی جائیں۔اگر کوئی شکر یہ ادا کرے تو اس پر خوشی نہ ہو جائیں اور پھر لکھیں کہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ آپ اس کی طرف توجہ کریں۔جواب نہ آئے تو پھر چنار روز کے بعد اور لکھیں کہ