تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 54
۵۰ آئیں تو کسی غریب بھائی کے ہاں بھیجدیا کرو۔ضروری تو نہیں کہ سب تم ہی کھاؤ۔اس سے غربار سے محبت کے تعلقات بھی پیدا ہو جائیں گے۔اور ذہنوں میں ایک دوسرے سے اُنس ہوگا "اے پھر حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے اپنے سب بچوں کو مستقل طور پر وقف فرما دیا اور اپنی جیب سے اُن کے تعلیمی اخراجات ادا فرمائے اور اس کے بعد اُن کو سلسلہ احمدیہ کے سپرد فرما دیا۔چنانچہ حضور نے ایک بار فرمایا کہ " میں نے یہ اپنا ہر ایک بچہ خدا تعالیٰ کے دین کے لئے وقف کر رکھا ہے۔میاں ناصر احمد وقف ہیں اور دین کا کام کر رہے ہیں۔چھوٹا بھی وقف ہے اور میں سوچ رہا ہوں کہ اسے کس طرح دین کے کام پر لگایا جائے۔اس سے چھوٹا ڈاکٹر ہے۔وہ امتحان پاس کر چکا ہے اور اب ٹریننگ حاصل کر رہا ہے، تا سلسلہ کی خدمت کر سکے اس عرصہ میں دوسرے دونوں سلسلہ کے کام پر لگ چکے ہیں الحمدللہ باقی چھوٹے پڑھ رہے ہیں اور وہ سب بھی دین کے لئے پڑھ رہے ہیں۔میرے تیرہ لڑکے ہیں اور تیرہ کے تیرہ دین کے لئے وقف ہیں" کے ہاتھ سے کام کرنے کا عمل نمونہ پیش کرنے کے لئے حضور نے وقار حمل“ کا نہایت پیارا طریق جاری فرمایا۔اور اپنے ہاتھ سے مٹی کی ٹوکری اٹھا کر ایک عظیم الشان اُسوہ پیش کیا۔حضور فرماتے ہیں کہ : جب پہلے دن میں نے کہی پکڑی اور مٹی کی ٹوکری اُٹھائی تو کئی مخلصین ایسے تھے جو کانپ رہے تھے اور وہ دوڑے دوڑنے آتے اور کہتے حضور تکلیف نہ کریں ہم کام کرتے ہیں اور میرے ہاتھ سے کہی اور ٹوکری لینے کی کوشش کرتے لیکن جب چند دن میں نے اُن کے ساتھ مل کر کام کیا تو پھر وہ عادی ہو گئے اور وہ سمجھنے لگے کہ یہ ایک مشترکہ کام ہے جو ہم بھی کر رہے ہیں اور یہ بھی کر رہے ہیں سے الغرض جماعت احمدیہ کے مقدس امام و قائد کی حیثیت سے حضور نے تحریک جدید کے احکام اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں مکمل طور پر نافذ کر دکھائے جو سلسلہ احمدیہ کے لئے ہمیشہ مشعل راہ کا کام دیں گے؟ لة الفضل " ، ارجنوری ۱۳۵ از صفحه و کالم 1 + سے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۱۲۴ صفحه ۹۷۵ مشاورت ۱۹۵۴ میں سنور نے مزید فرمایا "آخر میرے تیرہ بیٹوں نے زندگیاں وقف کی ہیں یا نہیں۔۔۔۔۔وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے نے مزید وقف چھوڑا تو میں نے ان کی شکل نہیں دیکھنی۔میرے ساتھ اُن کا کوئی تعلق نہیں رہے گا۔یہ درپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵ صفحه ۷۲) سے رپورٹ پیلس مشاورت کس ۱۹۳ صفحه ۲۱۷۴