تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 600
۵۷ تجاویز مرکز میں بھیجوائیں۔پہلا مرحلہ بخیر و خوبی طے ہو چکا۔تو ۲ ۱۲ مارچ ۱۹۳۷ء کو سی کمیٹی تکمیل پروگرام جوبلی کی تشکیل ہی میں مجلس خلافت جوبلی کے پروگرام کی تشکیل کمیل کیلئے ایک سب کمیٹی میں میں ایک مقرر کی گئی۔جس کے صدر حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب اور مبر حضرت مرند البشیر احمد صاحب۔صاحبزا حافظ مرزا ناصر احمد صاحب اور حضرت مولوی عبد المغنی خان صاحب نظر دعوت وتبلیغ اورسیکٹری مولاناعبدالرحیم صاحتے تھے۔جو تجاویز احباب کی طرف سے موصول ہوئی تھیں۔وہ سب کمیٹی کے سپرد کر دی گئیں۔ر اس کمیٹی نے ۲۹ مارچ شہداء کو اپنا پہلا اجلاس کیا۔بالآخر ۲۵ تجاویز پاس کیں جو شار له میں نظارت علیا کی سب کمیٹی کے سامنے رکھی گئیں۔۔۱۹۳۹ ۱۹۳۹ مجلس مشاور نہ میں سب کمیٹی نظارت علماء نے کچھ ترمیم کے ساتھ ان بھی تجاویز میں سے اکیس تجاوبند کی سفارش کرتے ہوئے مجلس مشاورت میں مشاورات السنة سکیلیٹی نظارت ملی کی رہوے میانی ریپور حسب ذیل رپورٹ پیش کی :- کی: سب کمیٹی کے سامنے ایک دوسری رپورٹ رپورٹ سب کمیٹی تکمیل پر وگرام جو بلی کے زیر پر جوبلی عنوان پیش ہوئی۔جو ایک سب کمیٹی کی مرتب کردہ ہے۔جو ۲۹ مارچ ۱۹۳۵ء کو منعقد ہوئی اور جب کسے صادیہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب۔سیکرٹری مولوی عبد الرحیم صاحب قرد ایم اے۔اور میران حضہ میں سجنزاده مرزا بشیر احمد صاحب - حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب اور مولوی عبد المغنی خاں صاحب تھے۔اس سے لیٹی نے اس امر کے متعلق تجاویز پیش کی ہیں کہ خلافت ہو بلی کو کب اور کس طرح منایا جائے۔اس رپورٹ پر بھی ہماری سب کمیٹی نے شروع سے آخر تک پورا غور کیا۔اور اس میں مناسب تغیر و تبدل کے ساتھ کمیٹی ہذا مندرجہ ذیل تجاویز عرض کرتی ہے :- دام جلسہ سالانہ ء کو تو بلی کے لئے مخصوص کر دیا جائے۔تا جماعت دو سفروں کی تکلیف اور دوہرے اخراجات کے بوجھ سے بچ جائے۔اور زمیندار احباب اور ملازمت پیشہ اصحاب ہر دو کو سہولت بھی رہے۔(۲) جوبلی کا جلسہ قادیان میں نہایت شاندار اور وسیع پیمانے پر ہونا چاہیئے اور اس میں شرکت کے لئے ہندوستان کے مختلف حصوں سے بلکہ ممکن ہو تو بیرونی مان سے بھی کثیر تعداد میں غیر احمدی و غیر تسلیم اصحاب اور نمائندگان پر یس کو قادیان آنے کی دعوت دی جائے، اور بھی کوشش