تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 567 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 567

۵۴۶ مذہبی کا نفرنس کراچی اور ر ستمبر کو آریہ سماج کو اچھی کی نہ ہی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مولینا غلام احمد صاحب شیخ نے محاسن اسلام پر تقریر کی۔کانفرنس کے صدر رائل پھر کے مشہور مندہ کیل تھے جنہوں نے دربار آپ کا شکریہ او آگیا۔اور کہا احمدی بھائیوں کی یہ کوشش ایک نہ ایک دن ضرور ہندو ستان میں خوشگوار فضاء پیدا کر دیگی ساله حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے مادر جون کو ارشاد فرمایا کہ تبری کا اعلان یورپ میں کی اور دوسرے کوں میں ہم ایک اشتہار شائع کرنا چاہتے ہیں جو یورپ بہت ہی مختصر ایک چھوٹے سے صفحے کا ہو تا کہ سب اُسے پڑھ لیں۔اس کا مضمون اتنا ہی ہو کہ مسیح کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے جو واقعات صحیحہ کی بناء پر ثابت ہو گئی ہے۔اس کے متعلق مزید حالات اور واقعیت اگر کوئی معلوم کرنا چاہے تو ہم سے کرے۔اس قسم کا اشتہار ہو جوبہت کثرت سے چھپوا کر شائع کیا جائے میلہ امام الزمان علیہ الصلوة والسلام کی اس دیرینہ خواہش کی کھیل میں مولانا جلال الدین صاحب شمس نام مسجد لنڈن نے این سال مسیح کی قبر ہندوستان میں لڑکے عنوان سے ایک اشتہار شائع کیا جس میں مقبر مسیح کا فوٹو بھی دیا۔اس اشتہار کی دار است بلیغ لنڈن کی طرف سے وسیع پیمانہ پر اشاعت کی گئی ہے مرزا فرحت اللہ بیگ حساب قادیان میں مر ا رات اداری ما بر درد کی نام کو قادیان آئے اور حضرت خلیفہ ربیع الثانی نے آپ کو دعوت طعام دی - - اگلے روز دوپہر کا کھانا حضرت ڈاکٹر یہ محمد اصیل صاحب کے ہاں تناول فرمایا اور نواب محمد عبد اللہ خان صاحب نے دعوت عصرانہ دی۔آپ مواچھے بجے شام کی ٹرین سے واپس روانہ ہوئے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب احضرت می محمد امیل صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر حمد صاحب اور دوسرے کئی احباب الوداع کے لئے اسٹیشن پر تشریف فرما تھے شے الفضل دار تمبر ۹ در صفحه ۲ کالم نه الحکم در جولائی ۱۹ رو صفحوم - ملفوظات جلد سوم منفور ۰۲۹۲ ے اشتہار کا متن انفضل یکم جنوری ۱۹۳۹ ء میں شائع شدہ ہے۔کے اشتہار کی اشاعت کے بعض معاونین خاص :- میان فلام محمد صاحب اختر شیخ مسعود احمد صاحب۔این ڈی اوربھا سیٹھ محمد اعظم صاحب حیدر آباد دکن حضرت یہ محمد اسٹیل صاحب بیٹائرڈ سول سرجن نادیا۔ڈاکٹر محمد الدین صاحب خون بینشی عبد العزیز صاحب قادریان - حضرت نواب محمد عبد الشفا تصاحب - صاجزادہ مرزا ظفر احمد صاحب الفضل ۳ ر خودی مس کالم م و به ر جنوری اور میکالم او در خود می ما کانام کی مفصل و رد گیر اور صفورا کالم والتفضل ۲۳ دسمبر ۱۹۱۳ بود عفو و کالم ۳ ہو