تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 495
ور تعلیم۔خدام و اطفال تعظیم کی طرف خاص توجہ دیں۔-۲۰ - مجالس اپنے حلقوں میں ایک ایک سیکرٹری مقرر کریں جو اس سال سے بیس سال کے فقدام : اطفال کی فہرست تیار کرے اور نوٹ کرے کہ اُن میں سے کتنے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور کتنے تعلیم حاصل نہیں کر رہے۔اس عمر کے جو خدام و اطفال تعلیم حاصل نہ کر رہے ہوں اُن کے والدین کو توجہ دلائی جائے وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلائیں۔بوقت ضرورت مرکز سے بھی ایسے والدین پر دباؤ ڈلوایا جا۔طلبہ خدام : اطفال کی نگرانی کی جائے کہ سٹڈی کے وقت گلیوں میں نہ پھریں۔۲۲ 1 - اس نگرانی کے لئے کچھے خادم ہر روز مقرر کئے جائیں جو سٹڈی کے وقت گلیوں میں پھرنے والے طلبه خدام و اطفال سے پوچھیں کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں ؟ د اس سے طلبہ میں آوارگی کی عادت نہ رہے گی۔اور وہ پڑھائی میں بھی زیادہ پچ پی لیں گے۔) ۲۳۔سنڈی کے وقت آوارگی کرنے والوں سے باز پرس کی جائے۔۲۴ - گوادر سے جاری کر نا خدام الاحمدیہ کا کام نہیں مگر تعلیم کو عام کرنے کی کوشش کرنا اُن کا فرض ہے پس مجالس نوجوانوں اور بچوں کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھیں۔عام تعلیم کے ساتھ دلچسپی پیدا کرنے اور عام طور پر نوجوانوں کے اندر دینی تعلیم کا شوق پیدا کرنے کی انتہائی کوشش کریں۔حضور ایدہ اللہ تالے سمجھتے ہیں کہ اگر خدام الاحمدیہ پوری محنت اور کوشش سے کام کریں تو دو تین سال میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد پہلے کی نسبت دگنی تخمینی ہو سکتی ہے۔۲۵ - مجالس ایسے طریق سوچتی رہیں جن کی وجہ سے خدام میں تعلیم کا شوق ہمیشہ رو بہ ترقی رہے۔۲۔یہ سائیں کی ترقی کا زمانہ ہے اس لئے خدام الاحمدیہ کو یہ کوشش کرنی چاہئیے کی ہماری جماعت کا ہر فرد سائیں کے اتارائی اصولوں سے واقف ہو جائے۔اور ابتدائی اصول اس کثرت کے ساتھ جماعت کے سامنے دہرائے جائیں کہ ہمارے نائی اور دھوبی بھی یہ بات جانتے ہوں کہ پانی دو گیسوں آکسیجن اور ہائیڈروجن سے بنا ہوا ہے۔یا یہ کہ آگ آکسیجن نیتی اور کاربن چھوڑتی ہے۔اور اگر اسے آکسیجن نہ ملے تو مجھے جاتی ہے۔پس یہ ضروری ہے کہ جہاں ہمارے دوست دینی علوم سے واقف ہوں وہاں انہیں کچھ نہ کچھ سائینس کے ابتدائی اصول سے بھی واقفیت ہو۔۲۷ - ذہانت و صحت جسمانی : نوجوانوں کی صحتوں کو درست کرنے کی انتہائی کوشش کی جانی چاہیئے۔یہ نہ ہو کہ جوانی آنے سے پہلے ہی اُن پر بڑھاپے کا زمانہ آجائے۔بڑھاپے کے زمانہ میں بھی وہ نوجوانوں والی صحت رکھتے ہوں۔صحت کی درستی کے لئے عام ورزشوں کے علاوہ ایسے کام تجویز کئے جائیں جو محنت کشی کے ہوں۔جن سے ان کی ورزش ہو اور اُن کے جسم میں طاقت پیدا ہو۔مثلا تا ئیکل چلانا اور اس کی مرمت وغیرہ کرنا۔مور چلانا جاننا اور موٹر کی مرمت وغیرہ گھوڑے کی سواری وغیرہ وغیرہ۔