تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 20 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 20

14 تو ہمارا ضروری فرض ہو جاتا ہے کہ باہر جائیں اور تلاش کریں کہ ہماری مدنی زندگی کہاں سے شروع ہوتی ہے ہمیں کیا معلوم ہے کہ کونسی جگہ کے لوگ ایسے ہیں کہ وہ فوراً احمدیت کو قبول کر لیں گے۔یونکہ ہمارا پہلا تجربہ بتاتا ہے کہ با قاعد ومشن کھولنا مہنگی چیز ہے۔اس لئے پر اپنے اصول پرستے مشن نہیں کھولے جا سکتے۔اس لئے میری تجویز ہے کہ دو دو آدمی تین نئے ممالک میں بھیجے جائیں۔ان میں سے ایک ایک انگریزی دان ہو اور ایک ایک عربی دان سب سے پہلے تو ایسے لوگ تلاش کئے بھائیں کہ جو سب یا کچھ حصہ خروج کا دے کر حسب ہدایت جا کر کام کریں۔مثلاً صرف کرایہ لے لیں آگے خرچ نہ مانگیں یا کرایہ خود ادا کردیں۔خرج چھ سات ماہ کے لئے ہم سے لے لیں یا کسی قدر رقم اس کام کے لئے دے سکیں۔اگر اس قسم کے آدمی حسب منشار نہ ملیں تو جن لوگوں نے پچھلے خطبہ کے ماتحت وقف کیا ہے اُن میں سے کچھ آدمی چن لئے بھائیں جن کو صرف کرایہ دیا جائے اور کچھ ماہ کے لئے معمولی خروج دیا جائے اس عرصہ میں وہ ان ملکوں کی زبانی سیکھ کر وہاں کوئی کام کریں اور ساتھ ساتھ تبلیغ بھی کریں اور سلسلہ کا لٹریچر اس ملک کی زبان میں ترجمہ کر کے اُسے اس ملک میں پھیلائیں اور اس ملک کے تاجروں اور احمدی جماعت کے تاجروں کے درمیان تعلق بھی قائم کرائیں۔غرض مذہبی اور تمدنی طور پر اس ملک اور احمدی جماعت کے درمیان واسطہ نہیں۔پس میں اس تحریک کے ماتحت ایک طرف تو ایسے نوجوانوں کا مطالبہ کرتا ہوں جو کچھ خرچ کا بوجھ خود اٹھائیں ورنہ وقت کرنے والوں میں سے اُن کو چن لیا جائے گا جو کرایہ اور کچھ ماہ کا شریچ لے کر ان ملکوں میں تبلیغ کے لئے جانے پر آمادہ ہوں گے جو ان کے لئے تجویز کئے جائیں گے۔اس چھ ماہ کے عرصہ میں ان کا فرض ہوگا کہ علاوہ تبلیغ کے وہاں کی زبان بھی سیکھ لیں اور اپنے لئے کوئی کام بھی نکالیں جس سے آئندہ گزارہ کر سکیں۔اس تحریک کے لئے خرچ کا اندازہ میں نے دس ہزار روپیہ کا لگایا ہے۔اس دوسر امطالبہ اس تحریک کے ماتحت میرا یہ ہے کہ جماعت کے ذی ثروت لوگ جو سو سو روپید یا زیادہ روپیہ دے سکیں اس کے لئے رقوم دے کر ثواب حاصل کریں کیا ہے ایسے نوجوان با قاعدہ مبلغ نہیں ہوں گے مگر اس بات کے پابند ہوں گے کہ با قاعدہ رپوڑیں بھیجتے رہیں اور ہماری ہدایات کے ماتحت تبلیغ کریں ، لے لے له الفضل ۲۹ نومبر ۱۹۳۳ صفحه ۱۳ و ۱۴ + نام سے موسوم کی گئی ہے ے چندہ کی یہ تر و تبلیغ بیرون ہند کے