تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 366
۳۵۳ فصل سوم مخالف احمدیت تحریکیں جو احراری شورش کے زمانہ میں بری طرح ناکام و نامر ایک اندرونی فتنہ کا خروج اور پسپا ہو چکی تھیں۔۱۹۳۷ میں دوبارہ پور کی قوت وطاقت کے ساتھ جمع ہو گئیں اور انہوں نے قادیان میں ایک اندرونی فتنہ کھڑا کر کے براہ راست سلسلہ احمدیہ کے نظام خلافت پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔یہ ایک بہت بڑا دور ابنتظار تھا۔جس میں کہ ، سٹہ اور ۳۵-۱۹۳۴ء میں اُٹھنے والے سب فتنے متحد ہوکر ایک نئی شکل میں جماعت احمدیہ کے خلاف برسر پیکار ہو گئے تھے۔اسی فتنہ کا بانی اور اسکے اس اندرونی فتنہ کی بنیا د شیخ عبدالرحمن صاحب (سابق لالہ شنکر داس کے ذریعہ سے رکھی گئی۔یہ صاحب مشاہرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر کے داخل ابتدائی حالات احمدیت ہوئے اور جیسا کہ انہوں نے ۲۴ اگست ۱۹۳۵ کو حلفیہ شہادت دی۔وہ حضر مسیح موعود علیہ السلام کی تقاریر و تحریرات اور جماعت احمدیہ کے متفقہ عقیدہ کے مطابق حضور کو دوسرے تمام نیوں کی طرح نبی یقین کرتے تھے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت سے متعلق شیخ صاحب موصوف کی حلفیہ شہادت مندرجہ ذیل ہے :- میں حضرت صاحب یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسّلام کے زمانہ کا احمدی ہوں یعنی شنشلہ میں بیعت کی تھی۔میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اسی طرح کا نبی یقین کرتا تھا اور کرتا ہوں میں طرح خدا کے دیگر نبیوں اور رسولوں کو یقین کرتا ہوں۔نفس نبوت میں میں نہ اس وقت کوئی فرق کرتا تھا اور نہ اب کرتا ہوں۔لفظ استعارہ اور مجاتہ اس وقت میرے کانوں میں کبھی نہیں پڑے تھے۔بعد میں حضور علیہ الصلوۃ واسلام کی کتب میں یہ الفاظ جن معنوں میں استعمال ہوتے ہوئے دیکھے ہیں وہ میرے عقیدہ کے منافی نہیں۔ان معنوں میں میں اب بھی حضور علیہ الصلوۃ والسّلام کو علی سبیل المجاز ہی نبی سمجھتا ہوں یعنی بغیر شریعت جدید کے نبی اور نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی بدولت اور حضور کی اطاعت میں فنا ہو کر حضور کا کامل بروز ہو کہ مقام نبوت کو حاصل کرنے والانبی۔میرے اس عقیدہ کی بنیاد حضرت