تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 352
۳۳۹ عبد الرحمن کہ احب خادم نے اور غیر مبالعین کی طرف سے مولومی شعر الہ دین صاحب شملوی نے نمائندگی کی۔اس مناظرہ میں مولوی عمر الدین صاحب شملوی کی بدھو اسمی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ دوران مناظرہ ہیں ایک معزز خیر احمدی مولوی ظفر احسن صاحب نے کہا کہ مولوی عمرالدین صاحب شملوی معقول آدمی تھا آج معلوم نہیں کیا ہوگیا ہے کہ الٹی سیدھی باتیں کر رہا ہے۔مناظر میں بعض دوا ہے غیر مبالغ مبلغ بھی مولوی صاحب موصوف کے دائیں بائیں بیٹھے تھے۔جو بعض اوقات انکی بے علمی پر بے اختیار ہنس پڑتے تھے۔اے با سیف الرحمن ضنا کی بعیت ۱۹۳ میں جن خوش قسمت افراد کو قبول حق کی توفیق ملی۔اُن میں سلسلہ احمدیہ کے موجودہ مفتی مولانا ملک سیف الرحمن صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ذیل میں ہم ملک صاحب موصوف کے ایک منو ہے کا ایک اقتباس درج کرنا ضروری سمجھتے ہیں جسے آپکے حلقہ بگوش احمدیت ہونے کے واقعات پر تفصیلی روشنی پڑتی ہے۔اپنے لکھا :- خاکسار اپنے علاقہ کے ایک معزز نقشبندی خاندان کا رکن ہے۔۔۔۔خاکسار پچھلے سالوں میں بغرض تعلیم لاہور میں مقیم رہا۔اثنائے قیام میں احمدیت کی مخالفت کا اتفاق ہوا۔اس غرض کے لئے حلقہ نیلہ گنبد لاہور میں ایک انجمن سیف الاسلام نامی بنائی گئی جس کی سیکرٹری شپ کی خدمات خاکسار کے سپرد کی گئیں۔چونکہ اس وقت احترار نے احمدیت کے خلاف بہت کچھ شور مچارکھا تھا۔اور اس شور و غوغا کے آغاز کی وجہ سے لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول تھی۔اس لئے اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے انجمن کے ماتحت جلسے اور ٹریکٹ وغیرہ شائع کر کے احمدیت کے خلاف لوگوں کو مشتعل کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔نبیلہ گنبد کے بعض احمدیوں کو حلقہ کے لوگوں نے تنگ کرنا شروع کیا۔اگر احمدی مسجد کے سامنے والے گراؤنڈ میں کوئی تبلیغی جلسہ کرنا چاہتے تو انجمن کی طرف سے اُسے درہم برہم کرنے کی ہر جائز و ناجائز کوشش کی جاتی۔اس اثناء میں بعض احمدی : دوستوں نے خاکسار کو احمدیت کے اصول میں غور و فکر کرنے کی ترغیب دی۔چونکہ خاکسار کے لئے اس صورت میں احمدیت کی مخالفت کا یہ پہلا موقع تھا۔اس لئے اس ترغیب پر خاکسار نے کسی قدر گہری نظر سے عقائد احمدیت اور اسکی ترقی اور احراری کوشش کے مفید یا غیر مفید نتائج کے متعلق غور و خوض شروع ان الفضل ۲۰ نومبر به صفحه ۹ و ۱۰ و الفضل ۲۱ نومبر او صفحه ۱۱ ۱۲ : تک ملک صاحب به شهدا حضرت خلیفہ البیع الثانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت میں دار اپریل راء کو لکھا تھا کے خوا ہی خیار زید اس لا ہور م م ر اگر کر مرنے کا کم ہے۔