تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 350
۳۳۷ مباحثہ موضع پدین دار علاقه کشک ۱۳ اپریل ۱۹۳۷ء کو مولوی ظہور حسین صاحب فاضل نے کئی غیر احمدی علماء سے مناظرہ کیا۔متعد د غیر احمدی اصحابے واضح لفظوں میں اقرار کیا کہ احمدیوں کے پیش کردہ دلائل کا جواب ہمارے مولوی نہیں دے سکے لے مباحثہ ہیرو مشرقی (ضلع ڈیرہ غازیخاں) ۲۶ اپریل شاہ کو ہیرو شرقی میں آٹھ گھنٹہ کے قریب نہایت کامیاب مناظرہ ہوا۔احمدیوں کی طرف سے مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری مناظر تھے۔اور غیر احمدیوں کی طرف سے سائیں لال حسین صاحب اختری دوسرے دن مباہلہ بھی کیا گیا۔سلے مباحثہ گوجرانوالہ مولانا ابو العطاء صاحب نے ۲۰ رجون ۱۹۳۶ء کو عبداللہ معمار صاحب سے مولوی ثناء اللہ صاحت کے ساتھ آخری فیصلہ' کے موضوع پر شاندار مناظرہ کیا۔مخالفین احمدیت نے بھی احمدی مناظر کی شرافت و نجابت، علمیت، سنجیدی اور وی و مالی کا ارا اور آ پ کا کام خوشی کا ظہار کیات مباحثہ بھرت (ضلع لائل پور ) - موضع بھرت چک ۴۳۱۷ میں مولانا قاضی محمد نذیر صادر فاضل نے مولوی و شفیع صاحب نکھری سے حیات وفات مسیح اور مسئلہ صدق مسیح موعود پر دو مناظرے کئے۔تیسرا مناظرہ ختم نبوی تر تھا مگر مولوی مرشفیع صاحب کو میدان میں آنے کی جرأت نہ ہوسکی۔شہ مناظرہ بہت پور (ضلع ہوشیار پور) ۱۹۳۵ء کا مشہور تحریری مناظرہ بہت پور میں احمدیوں اور شیعوں کے مابین ہوا، جو یکم اکتوبر سے لیکر ہر اکتوبر را یار یار در ایران احمد مناظر مولانا الا اعلا صاحب جالنہ بھری تھے اور مناظر انجمن اثنا عشریہ جناب مرزا یوسف آسین صاحب۔موضوع بحث حسب ذیل تھے۔را) صداقت دعوئی حضرت مرزا غلام احمد صاحب مہدی موعود (۲) متعة النساء - (۱۳) ختم نبوت - (۲) تعزیہ داری۔یہ یادگار مناظرہ دسمبر ۱۹۳۶ء میں جماعت احمدیہ اور شیعہ اثنا عشریہ بہت پور کے مشترکہ خرج پر شائع کر دیا گیا ہے اس مناظرہ میں نمائندگان فرقہ اثنا عشریہ حسب ذیل تھے :۔سید احمد علی شاہ صاحب - فداحسین صاحب - عطا محمد صاحب پریزیڈنٹ اثنا عشری۔نمائندگان جماعت احمدیہ کے نام یہ ہیں :۔مولوی عبد الرحمن صاحب انور انچارج تحریک جدید ربوہ - ولوی محمد اسماعیل صاحب ذیح۔چوہدری کمال الدین صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ محبت پور - جہ راه افضل ۳۹ را پریل ۱۹۳۶ بر صفر م: له الفضل یکم مئی ۱۳ صفحه ۲ کالم ۲: سه تفصیل افضل ۱۰ مئی ۹۳۶ راء صفحه به وه پر مندر جا ہے ؟ که الفضل ۱۲۰ جون ۱۹۳۶ صفحه ۹ : شه الفضل ۲۹ جولائی یا د صفحیہ کالم ان کے پرچے صاف نہ پڑھے جا سکتے تھے لیکن چوہدری خلیل احمد صاحب را تربی اسے سیالکوئی، حافظ سلیم احمد صاحب انا وی اور فریش محمد نذیر صاحب علمانی کی محنت و کاوش کے نتیجہ میں سب پر چھے نقل مطابق اصل شائع ہو گئے :