تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 189 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 189

16A کے بعد پنجاب کی وہ مسلم اکثریت جس کے لئے ہم گذشتہ دس سال سے لڑرہے ہیں برباد ہو جائے گی اور اس کے بعد شیعہ علیحدہ نیابت کے اس مطالبہ کو جو وہ گذشتہ پانچ سال سے پیش کر رہے ہیں، زیادہ قوت سے پیش کر کے ملت کی صف میں مزید انتشار کا باعث ہو جائیں گے۔میں علامہ ممدوح سے یہ پونچھنے کی جرات کرتا ہوں کہ وہ تاریخ عالم میں سے مجھے ایک مثال ایسی بتا دیں جس سے یہ ثابت ہو کہ جب کسی امت میں ایک دفعہ عقیدہ کا اختلاف پیدا ہو چکا ہو تو پھر وہ تبلیغ یا بحث یا مقاطعہ یا مجادلہ یا تشدد سے مٹ گیا ہو۔مجھے یقین ہے کہ وہ اس کی ایک مثال بھی پیش نہیں کر سکیں گے۔بلکہ دنیا جانتی ہے کہ بدھ مت والوں اور برہمنوں نے ہندوستان میں اور رومن کیتھولک اور پراٹسٹنٹ عیسائیوں نے یورپ میں اور خوارج اور شیعہ اور سنی مسلمانوں نے شام، عرق اور عرب میں اختلاف عقائد کی وجہ سے ایک دوسرے کو قتل کرنے، برباد کرنے اور زندہ جلا دینے کے بعد اگر کسی اصول پر مسلح کی تودہ اصول یہی تھا کہ انہوں نے اختلاف عقاید کو گوارا کر لیا۔اگر تاریخ کا یہ سبق ناق بل انکار ہے تو کیا یہ حقیقت اندوہناک نہیں کہ علامہ اقبال کا سا بلند پایہ مسلمان ملت کو مجادلہ مقاطعہ کا سبق دیتا ہے اور یہ نہیں کہتا کہ اختلاف عقیدہ کو بحث و مباحثہ کے لئے ترک کر کے سیاسی لحاظ سے متحد ہو جاؤ۔اور لطف یہ کہ علامہ محمدوح مسلمانوں کو افتراق کی دعوت دیتے ہوئے خود مرزائیوں سے سیاسی طور پر اتحاد پیدا کر رہے ہیں۔چونکہ مقالہ امروزہ طویل ہوگیا ہے لہذا میں اس بحث کو اشاعت فردا میں مکمل کروں گا۔وبالله التوفيق اخبار سیاست نے اپنے دوسرے اداریہ میں لکھا کہ :- " مجھے اس حقیقت کو الم نشرح کرنا ہے کہ یہانتک مرزائیوں کی تکفیر کا تعلق ہے کوئی غیر مرزائی مسلمان ایسا نہیں جو علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال سے متفق نہ ہو۔میں اپنی کتاب ”تحریک قادیان میں صاف لکھ چکا ہوں اور مقدمہ گورداسپور میں مرزائی جماعت کے موجودہ خلیفہ صاحب نے صاف کہدیا ہے کہ وہ غیر مرزائی مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں اور شرع اسلام کی وجہ سے جو شخص کسی مسلمان کو کافر کہے وہ خود کافر ہوتا ہے۔لہذا مرزائی جماعت کے کافر ہونے میں نہ کوئی شک ہو سکتا ہے اور نہ شبہ اور نہ کوئی شک وشبہ موجود ہی ہے۔اور اس معاملہ میں مجھے ڈاکٹر صاحب کی ہمنوائی کا فخر حاصل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس تکفیر کا مسلمانوں کے باہمی تمدنی معاشرتی اور اخلاقی تعلقات پر کیا اثر ہونا چاہیے۔کیا ہمیں مرزائیوں سے وہی سلوک کرنا چاہیے جو ہم عیسائیوں اور ہندو لو اور ه اخبار سیاست " لاہور بحوالہ روز نامہ الفضل " قادیان مورخه ۸ ارمئی ۱۹۳۵ به صفحه ؟ در ۱۹