تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 115
اسلام کا درد رکھنے والوں میں یہ سنگل ایک غیر معمولی جوش پیدا کرنے کا موجب ہو۔وقت آگیا ہے کہ مبین نوجوانوں نے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں وہ جلد سے جلد علم حاصل کر کے اس قابل ہو جائیں کہ انہیں اسلام کی جنگ میں اسی طرح بھونکا جا سکے جس طرح تنور میں لکڑیاں جھونکی جاتی ہیں۔اس جنگ میں رہی جرنیل کامیاب ہو سکتا ہے جو اس لڑائی کی آگ میں نوجوانوں کو جھونکتے میں ذرا رحم نہ محسوس کرے اور حبس طرح ایک بھر بھونجا چنے بھونتے وقت آموں اور دوسرے درختوں کے خشک پتے اپنے بھاڑ میں جھونکتا چلا جاتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے اس کے دل میں ذرا بھی رحم پیدا نہیں ہوتا اسی طرح نو جوانوں کو اس جنگ میں جھونکتا چلا جائے اگر بھاڑ میں پتے بھونکنے کے بغیر چھنے بھی نہیں ٹھن سکتے تو اس قسم کی قربانی کے بغیر اسلام کی فتح کیسے ہو سکتی ہے؟ پس اس بیجنگ میں وہی جب تیل کامیابی کا منہ دیکھ سکے گا جو یہ خیال کئے بغیر کہ کس طرح ماؤں کے دلوں پر چھریاں پھیل رہی ہیں نوجوانوں کو قربانی کے لئے پیش کرتا جائے۔موت اس کے دل میں کوئی رحم اور درد پیدا نہ کرے۔اس کے سامنے ایک ہی مقصد ہو اور وہ یہ کہ اسلام کا جھنڈا اُس نے دنیا میں گاڑنا ہے اور سنگدل ہو کر اپنے کام کو کرتا جائے جس دن مائیں یہ مجھیں گی کہ اگر ہمارا بچہ دین کی راہ میں مارا جائے تو بهاران خاندان زندہ ہو جائے گا جس دن آپ یہ سمجھنے لگیں گے کہ اگر ہمارا بچہ شہید ہو گیا تو وہ حقیقی زندگی صل کر بجائے گا اور ہم بھی حقیقی زندگی پائیں گے وہ دن ہو گا جب محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو زندگی ملے گی لے بیرونی تبلیغ اور خصوصی تعلیم کے کم فروری کا ن تحریک جدید میںایک خاص اہمیت کا حامل ہے دن کیونکہ اس روز حضور نے دار الواقفین کے تمام مجاہدین کو قصر خلافت واتین کا اہم انتخاب میں شرف باریابی بخشا۔ازاں بعد حضور نے بائیں واقفین کو بیرونی مالک میں بھجوانے اور تو واقفین کو تفسیر، حدیث، فقہ اور فلسفہ ومنطق کی اعلیٰ تعلیم دلانے کے لئے منتخب فرمایا تارہ شت سلسلہ کے بزرگ علماء کے قائم مقام بن سکیں۔اس موقعہ پر حضور نے اپنے دست مبارک سے جو تحریر بطور یاد داشت ے لکھی وہ ایک نہایت قیمتی یاد گار ہے جس کا عکس بھی اس مقام پر دیا جارہا ہے۔خطبہ جمعہ فرموده و مئی ۹ د مطبوعة الفضل " ۲۰ مئی ۱۹۴۷ایر صفحه ۳ و ۴ ۳ حضرت اقدس قبل از بین ۲۴ مارچ کو اپنی اس سکیم کا تذکرہ خطبہ جمعہ میں فرما چکے تھے ( افضل اور ماری اور صفحہ ۳) سے اصل تحریر حافظ قدرت اللہ صا مبالغ ہالینڈ کے پاس محفوظ ہے۔