تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 563 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 563

۵۴۹ تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۲۳۸۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو فیصلہ ہائی کورٹ مقدمہ سر کار بنام عطاء اللہ شاہ بخاری یہاں احرار کے چار مشہور اترابات اور ان کی نسبت مختصرا مسٹر جسٹس کولڈ سٹریم حج ہائی کورٹ کے ریمارکس درج کئے جاتے ہیں۔(1) محمد امین مارا گیا مگر اقبالی ملزم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا۔چیف سیکرٹری حکومت پنجاب کا حلفیہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ یہ بات غلط ہے۔(۲) جماعت احمدیہ کی اپنی عدالتیں ہیں۔ہائیکورٹ کے ریمارکس اس کی نسبت یہ تھے۔فوجداری مقدمات کی تحقیقات اس وقت تک قانونی نقطہ نگاہ سے قابل اعتراض نہیں جب تک کہ وہ طرفین کی مرضی سے نا قابل دست اندازی پولیس اور قابل راضی نامہ جھگڑوں کا فیصلہ کریں۔(۳) قادیان میں حکومت کا قانون مفلوج ہے۔ہائیکورٹ نے اس کی نسبت یہ رائے ظاہر کی۔اگر افسران پولیس اپنا فرض ادا نہیں کر رہے تھے تو بھی بیان کردہ واقعات ایسی شہادت نہیں جس سے اخذ کردہ نتائج نکالے جاسکیں کہ حکام مفلوج معلوم ہوتے تھے ظلم کا تدارک نہیں کیا گیا۔اور یہ کہ قادیان کے مزعومہ معین مظالم کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔(۴) احمدی ہونے کے لئے تشدد کیا گیا۔اس الزام کی حقیقت حج ہائیکورٹ کے نزدیک یہ تھی کہ اس بات کی کوئی شہادت نہیں کہ سوائے ان لوگوں کے جو جماعت کو چھوڑ گئے ہوں یا ان سے لڑ بیٹھے ہوں اور کسی کو اس وجہ سے کہ وہ قادیانیوں میں شامل نہیں تھا ڈرایا دھمکایا گیا ہو۔۲۳۹ رو نداد جلسه مجلس احرار اسلام قادیان صفحه، شائع کردہ سیکرٹری مجلس احرار اسلام قادیان مطبوعہ برقی پریس امرتسر۔۲۴۰ بحواله الفضل ۲۳ / جنوری ۱۹۳۴ء صفحه ۶ - ۲۲۱- سید حبیب صاحب نے تحریک قادیان میں لکھا۔مولوی ظفر علی صاحب نے حال ہی میں تحریک قادیان کے خلاف جو ہنگامہ برپا کیا۔سیاست اس سے علیحدہ رہا اس لئے کہ سیاست مولوی صاحب کے اس فعل کو خلوص نیت پر مبنی نہیں سمجھتا اور نہ موجودہ زمانہ کو ایسی ہنگامہ خیزی کے لئے مفید سمجھتا ہے تاہم ارادہ یہ تھا کہ جو نہی مولوی ظفر علی صاحب کا پیدا کردہ ہنگامہ فرد ہو جائے تحریک قادیان کے متعلق گالی گلوچ سے بالکل میرا چند ایسے مضامین سپرد قلم کئے جائیں جو کسی اصول پر مبنی ہوں اور برادران قادیان کو موقعہ دیا جائے کہ وہ ان کا جواب دیں تاکہ ان پر ان کی غلط روی اور دنیا پر ان کی تحریک کی حقیقت ظاہر ہو جائے۔چنانچہ سید حبیب صاحب نے اس وعدہ کے مطابق اپنے اخبار سیاست میں جماعت احمدیہ کے خلاف نہایت سنجیدگی سے قلم اٹھایا اور متعدد مضامین لکھے جن کا جواب جماعت احمدیہ کی طرف سے چشمہ عرفان کے نام سے شائع شدہ موجود ہے اور ہر صاحب عقل و خرد کو دعوت فکر دے رہا ہے۔مولوی ظفر علی خاں صاحب کی روش پر شمس العلماء خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی نے بھی سخت تنقید کی اور عوام اور علماء کو اتحاد کی طرف توجہ دلائی اخبار "زمیندار" نے یہ مخلصانہ دعوت قبول کرنے کی بجائے خواجہ صاحب ہی کو بد نام کرنا شروع کر دیا۔جس پر انہوں نے اپنے اخبار عادل میں تحریر فرمایا۔سنا ہے عادل کی تحریک اتحاد المسلمین سے برہم ہو کر لاہور کے ایک اخبار نے میرے خلاف فرضی خطوط شائع کرنے شروع کئے ہیں کہ قادیانیت کی حمایت کیوں کی ؟ عادل اخبار ہندوستان کی سب اقوام کو ایک دل اور ملکی خدمت کے لئے متحد دیکھنے کا آرزومند ہے۔ہندوؤں کے سب فرقوں اور مسلمانوں کے سب فرقوں کو اپنے عقائد پر قائم رہنے اور ان کو اچھا سمجھنے کا حق حاصل ہے۔عمران کو یہ حق ہر گز نہیں ہے کہ وہ ذاتی عقائد کے جھگڑوں سے ملکی محبت ملکی خدمت اور ملکی وحدت میں رخنہ اندازی کریں اور ذاتی مفاد پر ملکی مفاد کو قربان کر دیں۔میں قادیانی فرقہ کے کسی چھوٹے بڑے عقیدہ کو تسلیم نہیں کرتا لیکن ان کے غلط عقائد کی جوابد ہی خدا کے سامنے خود انہی کے زمہ سمجھتا ہوں مجھے یہ اندیشہ نہیں کہ خدایا اس کے فرشتے مجھ سے قادیانیوں کے عقائد کی باز پرس کریں گے البتہ اگر میں اپنے عقائد کے خلاف مسلمان فرقوں سے موجودہ نازک زمانہ میں ان کے ذاتی اعتقاد کی نسبت جھگڑا کروں گا تو خدا کے سامنے اور خود اپنے ضمیر کے سامنے مسلمانوں کی سیاسی اخوت کے استحکام کو برباد کرنے والا مجرم بن جاؤں گا اور اس کی باز پرس مجھ سے ضرور ہو کی اس لئے لاہور کے مذکورہ اخبار اور اس جیسے سب حملہ اور اصحاب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی روش تبدیل کر دیں ورنہ دنیا و آخرت میں ان کو شرمند ہونا پڑے گا۔