تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 468
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۴۵۴ دو سرا باب (فصل نہم) قادیان میں احراری تبلیغ کانفرنس" اور حکومت پنجاب کا ظالمانہ حکم حکومت پنجاب نے مرکز احمدیت میں مظالم کا جو سلسلہ جاری کر رکھا تھا وہ اکتوبر ۱۹۳۴ء میں ایک نئی شکل اختیار کر گیا۔جبکہ حکومت کے افسروں نے سید نا حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی کے خلاف خصوصاً اور جماعت احمدیہ کے خلاف عموماً اپنے تار و اعزائم کو عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ احرار نے ۲۱-۲۲- ۲۳/ اکتوبر ۱۹۳۴ء کی تاریخوں میں " قادیان تبلیغ کا نفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا اور اس میں شرکت کے لئے ملک بھر میں زبردست پروپیگنڈا کیا گیا۔اس جلسہ کے انعقاد میں ہندو ڈپٹی کمشنر جے ایم۔شری نگیش کا بہت دخل تھا۔an شعبہ خاص کا قیام اس تشویشناک ماحول میں صدر انجمن احمدیہ نے شعبہ خاص کے نام سے ایک اہم محکمہ قائم کر دیا اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے حضرت صاجزادہ مرزا شریف احمد صاحب کو اس کا ناظم مقرر فرمایا۔II اس نئے شعبہ کا مقصد یہ تھا کہ ہر وقت صورت حال کا جائزہ لیا جائے اور خطرناک حالات کا مقابلہ کرنے کی فوری اور موثر تدابیر کی جائیں۔چوہدری ظہور احمد صاحب آڈیٹر صد را مجمن احمدیہ کا بیان ہے کہ حکومت کے بعض افسروں نے یہ طے کیا کہ اس شعبہ کے سرگرم کارکنوں کو مقدمات میں الجھایا جائے اور ہر مقدمہ میں کسی ایک گمنام شخص کا نام بھی رکھ لیا جائے۔اس سلسلہ میں سب سے پہلا مقدمہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے خلاف دائر کیا گیا اور آپ کے ساتھ چوہدری ظہور احمد صاحب اور بعض دوسرے احمدی بھی شامل کئے گئے چونکہ حضرت صاحبزادہ صاحب کو اللہ تعالیٰ نے دیوی وجاہت و عظمت بھی عطا فرمائی تھی اور مار پیٹ کا جو الزام آپ پر لگایا گیا تھا اسے کوئی عقلمند تسلیم نہیں کر سکتا تھا اس لئے مجسٹریٹ نے حضرت میاں صاحب کو سمن کرنے کی بھی ضرورت نہ سمجھی اور آپ کے خلاف مقدمہ خارج کر دیا۔مگر دو سرے احمدیوں کے خلاف کئی ماہ تک مقدمہ چلتا رہا۔بالآخر ایسے حالات رونما ہوئے کہ چوہدری ظہور احمد صاحب تو